پاور سیکٹر کے گردشی قرضے ‘ بلوچستان حکومت283ارب کی مقروض

پاور سیکٹر کے گردشی قرضے ‘ بلوچستان حکومت283ارب کی مقروض

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد :دو سالوں میں پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ ایک ہزار 139ارب روپے تک جا پہنچابلوچستان حکومت کے ذمے 283ارب روپے واجب الادا ہے ،زرعی صارفین کیلئے حکومت بلوچستان کی 60فیصد جبکہ وفاق کی جانب سے 40فیصد سبسڈی کی رقم ادا نہیں کی گئی ۔۔نجی ٹی وی کے مطابق ملک میں موجودہ دورحکومت کی جانب سے گردشی قرضوں کے کنٹرول کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ،قرضہ1139ارب روپے کے اضافے کے ساتھ23سو ارب روپے تک جا پہنچاہے ۔سیکرٹری توانائی کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں گردشی قرضہ116ارب روپے بڑھ گیا ،مالی سال کی پہلی ششماہی میں گردشی قرضہ میں288ارب روپے ،دوسری ششماہی میں 198ارب روپے تھا جبکہ مالی سال2020کی پہلی ششماہی میں 243ارب روپے جبکہ دوسری شمشاہی میں یہ قرضہ294ارب روپے تک بڑھ گیاہے موجودہ حکومت کی طرف سے پانچ دفعہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیاہے ،نجی ٹی وی کے مطابق پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کے الیکٹرک اور پاکستان اسٹیل ملز 164ارب روپے کے نادہندہ نکلے ۔محکمہ توانائی ڈویژن کے حکام کے مطابق زرعی صارفین کیلئے حکومت بلوچستان کی جانب سے 60فیصد سبسڈی اور وفاق کی جانب سے 40فیصد سبسڈی کی رقم ادا نہیں کی گئی ہے ،جبکہ زرعی صارفین 10ہزار روپے کی فکسڈ رقم ادا نہیں کررہے بلوچستان حکومت کے ذمے 283ارب روپے واجب الادا ہے ،نجی ٹی وی کے مطابق مالی سال 2019ءکے دوران 280ارب روپے کی ریکوری کم ہوئی ہے جبکہ مالی سال 2020ءکے دوران ریکاریاں 410ارب روپے کم ہوئیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!