سیاسی اتفاق رائے قائم نہ ہونے پر کام کرنے سے قاصر ہوں‘ جاوید جبار

سیاسی اتفاق رائے قائم نہ ہونے پر کام کرنے سے قاصر ہوں‘ جاوید جبار

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ: سابق وفاقی وزیر سینیٹر(ر) جاوید جبار نے کہا ہے کہ وہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، گور نربلوچستا ن جسٹس(ر) امان اللہ یاسین زئی ، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے انہیں10ویں این ایف سی ایوارڈ کے لئے بلوچستان کا غیر سرکاری رکن مقرر کیا لیکن سیاسی اتفاق رائے قائم نہ ہونے پر وہ اس عہدے پر کام کرنے سے قاصر ہیں البتہ وہ بلوچستان کی ترقی کے لئے رضاکارانہ طور پر خدمات سرانجام دیتے رہیں گے ،یہ بات انہوں نے ہفتہ کو این ایف سی ایوارڈ کے غیر سرکاری رکن کے طور پر مستعفیٰ ہونے کے بعد اپنے جاری کردہ بیان میں کہی، جاوید جبار نے کہا کہ پاکستان کو کوئی بھی شہری خواہ وہ کسی بھی صوبے کا رہائشی ہو اگر اسے تعینات اور تجویز کرنے والی اتھارٹی اہل سمجھے وہ آئینی اور قانونی طور پر چاروں صوبوں سے این ایف سی یا کسی بھی صوبائی یا وفاقی باڈی کا رکن بن سکتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور یہاں کے لوگوں سے میرا تعلق 45سال پرانا ہے جس کے دوران میں سے 6سالہ سینیٹ کے دور، تین بار وفاقی وزیر اور ترقیاتی شعبے میں صوبے کے لئے کام کیا جس کی وجہ سے غیر متوقع طور پر این ایف سی کا رکن بننے کا عہدہ قبول کیا تاکہ میں بلوچستان کے لوگوں کی مثبت انداز میں ایک بار پھر نمائندگی کرتے ہوئے انکے حقوق کا دفاع کر سکوں انہوں نے کہا کہ اگر چہ میں بلوچستان کا باشندہ نہیں ہوں لیکن صوبے کی سیاسی اقتصادیات سے معرفت رکھتے ہوئے بلوچستان کے بنیادی مسائل کا مقدمہ لڑنا چاہتا تھا میری تقرری پر بلوچستان سے کئی لوگوں نے میری حمایت اور تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی تھی البتہ گزشتہ 2ہفتوں کے دوران میر ی تقرری پر کچھ سیاسی مخالفت سامنے آئی اور میرے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواستیں بھی دیں گئیں جنکا عدالت آئین و قانون کے مطابق فیصلہ دیگی ۔انہوں نے کہا کہ اتفاق رائے ہی این ایف سی ایوارڈ کا بنیادی جز ہے این ایف سی کے حوالے سے بلوچستان میں وسیع سیاسی اتفاق کی ضرورت ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو نتائج سے قطع نظر کچھ لوگوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا انہوں نے کہا کہ اگر میرے نام پر سیاسی اتفاق نہیں ہوتا تو اس سے ایک طویل مخالفت کا سلسلہ شروع ہوتا جس سے وزیراعلیٰ اور حکومت کے مثبت کاموں سے توجہ ہٹتی لہذا میں 10ویں این ایف سی ایوارڈ سے مستعفی ہونے کا اعلان کر رہا ہوں میں نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت، گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کو ارسال کردیا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ این ایف سی کے نئے رکن صوبے کو اسکا حصہ دلوانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے انہوں نے کہا کہ میں بلوچستان کی ترقی کے لئے مستقبل میں بھی رضاکارانہ طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہونگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!