یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے سعودی عرب کی زیرقیادت اتحاد نے جمعے کو بتایا ہے کہ جنوبی سرحدی علاقے نجران پر حوثیوں کے حملے میں 11 شہری زخمی ہو گئے، جن میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔
یہ حملہ حوثیوں کی جانب سے یمن میں سرکاری فورسز پر 2022 کے بعد کے سب سے جان لیوا حملے کے ایک دن بعد کیا گیا۔
اتحادی افواج کی مشترکہ کمان نے بتایا کہ شہری جمعرات کی رات گئے اس وقت زخمی ہوئے جب حوثیوں کی جانب سے اندھادھند کی گئی گولہ باری کے دوران کچھ گولے نجران کے شہری علاقوں میں آ گرے۔
زخمیوں میں سات سعودی شہری، ایک یمنی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری شامل ہیں۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق سعودی زخمیوں میں ایک خاتون اور چار سالہ بچہ بھی شامل ہیں، جن کے جسم پر دوسرے درجے کے زخم آئے۔
ترکی المالکی نے حوثیوں پر بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جان بوجھ کر شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔






