کاروباری شخصیت اور ‘ویفلکس’ کے مالک میر رضا علی کی پراسرار موت کے معاملے میں ہفتے کے روز 8 رکنی طبی بورڈ نے کراچی کے طارق روڈ قبرستان میں قبر کشائی کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا اور ڈی این اے ٹیسٹنگ و کیمیائی معائنے کے لیے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوا دیے۔
ہفتہ کے روز میر رضا کی موت سے چند گھنٹے قبل کی مبینہ آڈیو کال بھی منظرِعام پر آ گئی، جس میں آواز کو ان کے والد نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
واضح رہے کہ نوجوان تاجر میر رضا علی کی موت کے معاملے نے ابتدا ہی سے شکوک و شبہات کو جنم دیا تھا اور ان کے اہلِ خانہ مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے کہ تحقیقات کو مکمل شفافیت اور غیرجانبداری سے آگے بڑھایا جائے۔
عدالت نے پولیس کی مبینہ غفلت کا نوٹس لیتے ہوئے کیس کی نگرانی اپنے ہاتھ میں لی، جس کے بعد قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم دیا گیا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا میر رضا کی موت خودکشی تھی یا قتل تھا۔
میر رضا علی کی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم ابتدائی طور پر جمعے کو طے تھا، تاہم میڈیکل بورڈ کی تشکیل میں تبدیلی پر خاندان کے شدید اعتراض کے باعث اسے ایک دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
بعد ازاں حکام نے عدالت کی جانب سے مقرر کردہ اصل 8 رکنی بورڈ بحال کر دیا، جس کے بعد خاندان کی جانب سے پیش کی گئی 5 رکنی بورڈ پر تحفظات دور ہو گئے۔
نظرثانی شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کو بورڈ کا کنوینر مقرر کیا گیا، جبکہ ڈاؤ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نسیم کو پیتھالوجسٹ، ڈاکٹر فرخ کو فرانزک ماہر اور شہری پولیس رابطہ کمیٹی (سی پی ایل سی) کے اہلکار عامر حسن کو فرانزک شناختی ماہر کے طور پر شامل کیا گیا۔ ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر سری چند اور ڈاکٹر دانیال بھی بورڈ کے ارکان میں شامل رہے۔
طارق روڈ قبرستان کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میڈیکل بورڈ کے رکن پروفیسر ڈاکٹر نسیم نے بتایا کہ لاش کا پوسٹ مارٹم معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے اور نمونے ٹیسٹنگ کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لاش سے حاصل کیے گئے نمونے محفوظ کر کے تفصیلی معائنے، بشمول ڈی این اے ٹیسٹنگ اور کیمیائی تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوائے جا چکے ہیں۔
ان کے مطابق قبر کشائی، پوسٹ مارٹم معائنے اور دوبارہ تدفین کے پورے عمل کی نگرانی جوڈیشل مجسٹریٹ اور پولیس سرجن نے کی۔
وکیل جبران ناصر نے میڈیا کو بتایا کہ قبر کشائی کا عمل صبح 11 بج کر 7 منٹ پر شروع ہوا، جس کے بعد پوسٹ مارٹم معائنہ مکمل کیا گیا۔
ان کے مطابق مرحوم کی لاش سے مطلوبہ شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور میڈیکل بورڈ نے پولیس سرجن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات بھی حاصل کر لیے ہیں۔
جبران ناصر نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ ہفتے کے روز شام 6 بجے تک متوقع ہے، جبکہ حتمی رپورٹ کیمیائی معائنے کے بعد تیار کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ کے نتائج اس اہم سوال کو واضح کریں گے کہ آیا موت خودکشی تھی یا قتل اور یہ کہ زخم خود لگائے گئے تھے یا کسی اور کے ہاتھوں۔
انہوں نے آج کے میڈیکل بورڈ اور کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عدلیہ کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے پولیس کی مبینہ غفلت کا نوٹس لیا اور کہا کہ حاصل ہونے والے حقائق کیس سے متعلق افواہوں اور قیاس آرائیوں کا خاتمہ کریں گے۔
میڈیکل بورڈ کے رکن اور سی پی ایل سی اہلکار عامر حسن نے ایک نجی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے حیران کن انکشاف کیا کہ بورڈ کو اس بات کا مکمل یقین نہیں کہ قبر سے نکالی گئی لاش واقعی میر رضا علی ہی کی ہے۔
ان کے مطابق بورڈ نے لاش کے ڈی این اے نمونے کے ساتھ ساتھ شناخت کی تصدیق کے لیے میر رضا کے والدین کے ڈی این اے نمونے بھی حاصل کیے ہیں۔
عامر حسن نے واضح کیا کہ ڈی این اے ٹیسٹ ہی یہ ثابت کرے گا کہ آیا قبر سے نکالی گئی لاش واقعی میر رضا علی کی ہے یا نہیں۔
اس دوران میر رضا علی کی موت سے چند گھنٹے قبل کی ایک مبینہ آڈیو کال بھی منظرِعام پر آ گئی، جس میں مالی معاملات اور ادائیگیوں کا ذکر سنائی دیتا ہے۔ تاہم میر رضا کے والد میر حسین نے اس آڈیو کو اپنے بیٹے کی آواز تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ سب کیس کو خراب کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ میر حسین نے بتایا کہ ان کی اپنی ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے آ چکی ہے، جبکہ ایک روز قبل بیٹے کی آڈیو ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا اور سوال اٹھایا کہ آیا ان آڈیوز کا کوئی فرانزک معائنہ کروایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نہ یہ آواز ان کے بیٹے کی ہے اور نہ ہی ان کی اپنی اور استفسار کیا کہ پہلے پوسٹ مارٹم میں گولی کا’خول’ برآمد ہونے کے بعد اب قبر کشائی کے دوران آڈیوز کا سامنے آنا کس کی کارروائی اور کس مقصد کے تحت ہو رہا ہے۔
میڈیکل بورڈ اور خاندان کے وکیل کے مطابق ابتدائی رپورٹ ہفتے کی شام تک متوقع ہے، جبکہ حتمی نتائج کیمیائی اور ڈی این اے تجزیے کی تکمیل کے بعد سامنے آئیں گے۔
یہی رپورٹ بالآخر اس بات کا تعین کرے گی کہ میر رضا علی کی موت کن حالات میں ہوئی اور کیا برآمد ہونے والی لاش واقعی انہی کی ہے۔
یہ ایک حساس نوعیت کا کیس ہے جس میں موت کی نوعیت زیرِ تفتیش ہے۔ اگر کوئی قاری ذہنی دباؤ یا ایسی ہی کیفیت کا شکار ہو تو مناسب مدد اور معاونت حاصل کرنے میں ہم رہنمائی کر سکتے ہیں۔






