سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے موقف کی تائید،بھارت فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، دفتر خارجہ

سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے موقف کی تائید،بھارت فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، دفتر خارجہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے موقف کی بھرپور تائید ،بھارت اسے اپنی مرضی سے مسترد نہیں کرسکتا ، پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کےلئے مذاکرات اور سفارت کاری کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ،یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کی ثالثی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں،امید ہے فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئینگے، مکہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے، اجتماعی دفاع اور مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا،افغان سفیر کا این ڈی یو میں خطاب نان ایشو ہے،نہیں معلوم افغان سفیر نے ٹوئٹر پر کیا پوسٹ کیا ہے، افغانستان کے معاملے پر چین کی تعمیری اور مسلسل کوششوں کو سراہتے ہیں، افغانستا ن کے حوالے سے پیش رفت طالبان حکومت کے ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات سے مشروط ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں کیا ۔طاہر اندرابی نے بتایا کہ 31 اگست کو مکہ معاہدے کے تحت قائم کمیٹی کا اجلاس استنبول میں ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، اس تعاون کا سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا جبکہ پاکستان 3 سال تک سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری سنبھالے گا، مکہ معاہدے کا نام تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ مختلف زبانوں، بشمول ترکی، عربی اور انگریزی، میں اس کے حوالے سے استعمال کا معاملہ ہے۔ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ایران امریکا تنازع کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کی ثالثی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں، جب دونوں فریق جارحیت کی منطق کو سمجھتے ہوئے مذاکرات کی طرف واپس آئیں گے تو اسلام آباد مفاہمت کے تحت بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔سندھ طاس معاہدے سے متعلق ترجمان نے کہا کہ ہیگ میں بین الاقوامی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے موقف کی بھرپور تائید کرتا ہے اور پاکستان اسے خوش آئند قرار دیتا ہے، بھارت کی جانب سے فیصلے کو مسترد کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدات کے تقدس کی خلاف ورزی ہے، بھارت اپنی سہولت کے مطابق بین الاقوامی فیصلوں کو قبول یا مسترد نہیں کرسکتا۔ ان کا کہنا تھاکہ سندھ طاس معاہدے کے بارے میں عدالت کا فیصلہ بہت واضح ہے اور اسے مسترد کرنا بھارت کے لئے فردِ جرم کے مترادف ہے۔طاہر اندرابی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کا جائزہ لینے کےلئے بین الاقوامی ماہرین کی کوئی ٹیم پاکستان آرہی ہے یا نہیں، اس بارے میں انہیں معلومات نہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی مرضی کے نتائج نہ آنے پر بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتا،بھارت کا رویہ معاہدوں کے تقدس اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے،بھارت کا طرزعمل قائم شدہ بین الاقوامی قانونی اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار پر اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ بھارت کا رویہ مشترکہ وسائل سے متعلق قانونی معاہدوں کے لیے دیگر خطوں میں بھی خطرناک مثال بن سکتا ہے،جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں سرحد پار پانی کے انتظام میں یکطرفہ اقدامات انتہائی تشویشناک ہیں،سرحد پار آبی وسائل کے معاملے میں یکطرفہ اقدامات پائیدار امن اور علاقائی استحکام کے منافی ہیں۔انہوں نے پاکستان کے مطالبے کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کرے اور معاہدے کے تحت قائم ادارہ جاتی نظام کا احترام کرے،دونوں ممالک نے سندھ طاس معاہدے کے فریم ورک کو باقاعدہ طور پر قبول کیا تھا۔بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے ایوارڈ مسترد کرنا بھارت کی قانونی ذمہ داریوں کو ختم نہیں کر سکتا،ایوارڈ مسترد کرنے سے بھارت کی سندھ طاس معاہدے کے تحت ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی،بھارت کورٹ آف آربیٹریشن کے ایوارڈ پر عمل درآمد کی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا۔ افغانستان کے معاملے پر چین کی تعمیری اور مسلسل کوششوں کو سراہتے ہیں،پاکستان افغانستان کے معاملے پر ہر مثبت اور تعمیری مذاکرت کےلئے ہمیشہ تیار رہا ہے،افغانستان کے معاملے پر پیش رفت طالبان حکومت کے ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات سے مشروط ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مور کارروائی کرے،طالبان حکومت کو افغان سرزمین دہشت گردی کےلئے استعمال ہونے سے روکنے کی یقینی ضمانت دینا ہوگی،افغانستان سے روابط کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔طالبان حکومت کی یقین دہانیوں اور عملی اقدامات پر افغانستان سے روابط کا فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے لیے چین کے نمائندہ خصوصی اسلام آباد کے دورے پر تھے اور انہوں نے افغانستان کے لئے پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر محمد صادق سے ملاقات کی، افغان ناظم الامور کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب ایک روایتی خطاب تھا، سفیر اور سفارت کار اس طرح یونیورسٹیوں میں جاتے رہتے ہیں، اس سے زیادہ اخذ کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے، انہوں نے افغان سفیر کے این ڈی یو خطاب کو نان ایشو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ افغان سفیر نے ٹوئٹر پر کیا پوسٹ کیا ہے۔طاہر اندرابی کا مزید کہنا تھا کہ سفارتکاروں کا تعلیمی اداروں کا دورہ غیر معمولی بات نہیں،سفارت کاروں کے تعلیمی اداروں سے روابط اور دورے معمول کی بات ہیں،تعلیمی ادارے میں کسی ایلچی کی سرگرمی کو دوطرفہ تعلقات کی پیمائش کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا،ایلچی کے تعلیمی ادارے کے دورے کو غیر ضروری طور پر سیاسی تناظر میں نہ دیکھا جائے۔مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،کشمیر پر پاکستان کا موقف کشمیری عوام کی خواہشات پر مبنی ہے،یہ مسئلہ پاکستان کےلئے بدستور اہم ترجیح ہے جسے متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر مسلسل اٹھایا جا رہا ہے۔بشکیک میں بھی قیادت کی علاقائی رہنماﺅ ں سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر زیر بحث رہا،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی ہے، دورے میں مسئلہ کشمیر اٹھایا جائے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ سید علی گیلانی کی برسی پر پاکستان بھر میں تقریبات منعقد کی گئیں، ان کی کشمیر کاز کے لیے خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ کرغزستان سے متعلق بتایا کہ وزیر اعظم نے بشکیک میں کرغزستان کے صدر صدیر جاپاروف سے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے تعلقات کے مختلف پہلوﺅ ں پر گفتگو کی گئی،دونوں ممالک کے درمیان تجارت، معیشت، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ترجمان دفترخارجہ کا مزید بتانا تھا کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او ) کی ایک سال کے لیے چیئرمین شپ سنبھال لی، اگلے سال پاکستان ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ کا موضوع وژن کو عمل میں بدلنا، رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی ہے۔پاکستان ایس سی او رکن ممالک کے ساتھ علاقائی امن و استحکام، معاشی تعاون، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی و خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت اجلاس اور ایس سی او پلس سمٹ میں بھی شرکت کی۔وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایس سی او سربراہ اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے ہم منصبوں اور عالمی رہنماﺅں سے ملاقاتیں کیں،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایس سی او کے سیکریٹری جنرل او اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی ملاقاتیں کیں۔استنبول میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ملاقات ہوئی۔ جس میں سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی اور ثقافتی شعبوں میں پاکستان ترکیہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا خیرمقدم کیا گیا،پاکستان اور ترکیہ نے اعلی سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کا آئندہ اجلاس جلد از جلد، ممکنہ طور پر رواں سال منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔پاکستان اور ترکیہ نے علاقائی و عالمی امور پر قریبی تعاون اور امن و استحکام کے فروغ پر بھی اتفاق کیا،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے استنبول میں ترک وزیر دفاع سے بھی ملاقات کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے