اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرتے ہوئے بات چیت کے لیے رضامندی ظاہر کردی، (آج) جمعہ کو ملاقات کا وقت طے پاگیا۔ ذرائع کے مطابق جمعرات کو اپوزیشن اتحاد کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا جس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے ۔اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی، حکومتی اقدامات اور اپوزیشن کے جوابی اقدامات کے حوالے سے بات کی گئی۔اجلاس میں حکومت کی مذاکرات کی پیشکش پر اہم گفتگو ہوئی، اپوزیشن اتحاد حکومت کے ساتھ مذاکرات پر رضامندی ظاہر کردی۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے میٹنگ کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ جو گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی خبر آرہی ہے اس پر بھی غور کیا ہے، ہم نے بانی کی بہنوں کو جیل میں رکھنا اور اس کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی بھرپور مذمت کی ہے، ہمارے ایم این ایز اور ایم پی ایز کی گرفتاریاں ہوئی ہیں ان کی بھی مذمت کی ہے، ہم ریاست کے ساتھ کھڑے رہے، پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے مگر آپ آواز دباتے رہے ہمیں نہیں سنا۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارے چار لوگ اسلام آباد میں تھے، باقیوں کے آپ نے وارنٹ جاری کیے، آپ نے کہا ہم ٹولہ ہیں، انتشاری ہیں، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، ہم تو یہ الفاظ بھی دوبارہ دہرانا نہیں چاہتے، ہم نے گورنر راج اور ایمرجنسی پر غور کیا ہے، وفاقی مضبوط ہوتا ہے جب صوبے خود مختار ہوتے ہیں، اگر عوام کی مرضی کے خلاف کچھ کرتے ہیں تو وفاق کمزور ہوگا، ہم یہ بات پیپلز پارٹی کو بھی یاد کروائیں گے، یہ ہمارا ملک ہے، سب سے پہلے پاکستان اور اس کا امن و امان ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مشیران کے آگے اپنے تمام تحفظات رکھے ہیں، سپریم کورٹ کے پاس ہم گئے آرڈر ایمپلیمنٹ نہیں ہوا، جہاں ہم جاتے ہیں ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے، ہم ابھی بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہمارے پاس باضابطہ طور پر حکومت نے رابطہ نہیں کیا اگر ہمارے ساتھ رابطہ ہوتا ہے تو ضرور بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔






