پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے مریم نواز کی پیشی کے موقع پر ہوئے تصادم سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ ‘کل رات جاتی امرا میں 10 لاکھ روپے تقسیم کیے گئے، پتھر مارنے والے کارکن کو 25 ہزار روپے دیے گئے جبکہ بیگم صفدر کی گاڑی پر پتھر مارنے والے کو ایک لاکھ روپے دیے گئے’، پنجاب کے وزیرقانون راجا بشارت نے کہا ہے کہ مریم نواز کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے بلایا گیا تھا۔ اہور میں مریم نواز کی قومی احتساب بیورو (نیب) میں پیشی کے موقع پر پولیس اور کارکنان کے درمیان ہوئے تصادم کے بعد صوبائی وزرا راجا بشارت اور فیاض الحسن چوہان نے پریس کانفرنس کی اور مجموعی صورتحال سے آگاہ کیا۔
صوبائی وزیر قانون راجا بشارت کا کہنا تھا کہ آج کا واقعہ امن و عامہ کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش تھا اور نیب کے 20 سالہ دور میں اس طرح کی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کبھی دیکھنے میں ملا ہو جس کا آج مظاہرہ کیا گیا جبکہ آج یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آئی کہ مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ پر حملے کی تاریخ دہرائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج یہ بات بھی سامنے آئی کہ مسلم لیگ (ں) کرپٹ لوگوں کو بچانے کے لیے کس حد تک جاسکتی ہے اور اس کی غنڈہ گردی سے آئینی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی میڈیا کوریج اس بات کی شاہد کے کہ یہ واقعات کس طرح رونما ہوئے، آج کے تمام واقعات کا میڈیا عینی شاہد ہے اور میں میڈیا کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے بہت سی معلومات شیئر کیں اور مسلم لیگ (ن) کا اصل چہرہ بے نقاب کیا۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا لیکن وہ جلوس لے کر وہاں پہنچی جو اس بات کی دلیل ہے کہ مسلم لیگ (ن) اداروں کا احترام نہیں کرتی۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو خاتون عدالت سے ضمانت پر ہے اس نے عدالت کی دی ہوئی رعایت کا غلط استعمال کیا ہے کیونکہ کوئی بھی شخص جو ضمانت ہو قانون اسے ہر گز یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ آئینی و قانونی اداروں پر چڑھائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی غلط فہمی ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات سے حکومت کو مرعوب کریں گے اور اداروں کو دباؤ میں لے آئیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ صوبائی وزیر کے مطابق حکومت نے اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے اور یہ واضح کردوں کہ جن لوگوں نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی، پتھراؤ کیا، پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا، جو لوگ غیرقانونی طور پر وہاں اکٹھے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور مقدمات درج کرکے سزائیں دلوائی جائیں گی۔ راجا بشارت کا کہنا تھا کہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مریم نواز کی سیکیورٹی کی گاڑیوں میں پتھر بھر کر لائے گئے، جسے کارکنوں میں تقسیم کیا گیا اور پھر پولیس اور نیب دفتر پر حملے میں انہیں استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جن گاڑیوں میں پتھر لائے گئے ان میں سے کچھ کے نمبر پلیٹ جعلی تھے جبکہ کچھ کو سیکیورٹی کی آڑ میں مریم نواز کی گاڑی کے آگے رکھا گیا۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب نے اگر قانونی طور پر مریم نواز کو بلایا تھا تو وہ اکیلی یا چند کارکنوں کے ساتھ چلی جاتیں تو شاید یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی لیکن اب اس تمام صورتحال کے بعد مریم نواز کا کہنا کہ مجھے نقصان پہنچانے کے لیے بلایا گیا تھا تو میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ بی بی آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ آپ کے کرتوتوں کے سلسلے میں بلایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو ماضی میں آپ کرتی رہی ہیں اس کا حساب لینے کے لیے بلایا گیا تھا، جو کرپشن کی ایک داستان آپ نے رقم کی تھی اس کا حساب دینے کے لیے بلایا گیا تھا۔ آج کے واقعے سے متعلق انہوں نے کہا کہ نیب کی طرف سے استغاثہ موصول ہوچکا ہے جس میں کچھ لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ کچھ لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ نامعلوم ہے جن کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے نشاندہی کی جارہی ہے، اس کے علاوہ کچھ کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ یہ ہوا ہے کہ کوئی اسے الزام نہیں کہہ سکتا کیونکہ میڈیا نے ان تمام معاملات کو کور کیا ہے اور اس کی بنیاد پر ہی آج ہم یہ بات کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود میڈیا نواز یہ کہیں کہ مجھے نقصان پہنچانے کے لیے بلایا گیا اور آگے سے پتھر آئے تو بی بی یہ وہ پتھر تھے جو آپ لے کر گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت قانون کی عملداری پر یقین رکھنے والی حکومت ہے، جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا اس کی کارروائی کریں گے۔
