کوئٹہ:پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پرےس رےلےز مےں کہا گےا ہے کہ چمن باڈر کی مسلسل بندش اور ڈےورنڈ لائن پر سرحدی تجارت پر پابندی عائد کرنا انتہائی افسوسناک ہے پابندی کے باعث ہزاروں محنت کش لوگ بےروزگار ہوچکے ہےں جس سے چمن شہر اور اطراف مےں شہرےوں کے گھروں مےں شدےد مالی وخوراکی قلت پےدا ہوئی ہے ۔ بےان مےں کہا گےا ہے کہ زراعت اور لائےو اسٹاک کی تباہ حالی کے بعد ےہاں کے لوگوں کا واحد ذرےعہ معاش سرحدی تجارت سے وابستہ ہے جہاں ہزاروں لوگ اپنی محنت مزدوری کرکے دو وقت کی روٹی کمارہے ہےں لےکن ہمےشہ مختلف حےلے وبہانوں کے ذرےعے تجارت پر پابندی عائد کردی جاتی ہے اور چمن باڈر کو بند کردےا جاتا ہے بندش کے باعث شہرےوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بےان مےں کہا گےا ہے کہ سرحدی تجارت کی پابندی اور سلےکٹڈ حکومت کے عوام دشمن اقدامات کے باعث بےروزگاری اور غربت کی رجحان بڑھ چکی ہے بالخصوص دہاڑی دار طبقے کے گھروں کا چولہا تک بجھ گےا ہے ۔ اگر حکومت روزگار نہےں دے سکتی تو کم از کم لوگوں کو پہلے سے حاصل روزگار کے مواقع چھےننے سے گرےز کرے، روزگار چھےننے سے مالی ، معاشی بحران پےدا ہوگا اور بھوک وافلاس مےں اضافہ ہوگا کےونکہ حکومت غرےب سے دووقت کی روٹی چھےننے کےلئے عوام دشمن اقدامات کررہی ہے تو غرےب عوام اپنے بچوں کا پےٹ پالنے کےلئے ہرقسم کا احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے جس کی ذمہ داری بھی سلےکٹڈ صوبائی حکومت ، صوبائی وزےر اعلیٰ اور ان کے اتحادےوں پر عائد ہوگی۔ بےان مےں کہا گےا ہے کہ تقرےبا±30سے 40ہزار چھوٹے بڑے تاجر صرف وہی تجارت کررہے ہےں جو باڈر ٹرےڈ کا حصہ ہے اور آبادی کی مکمل اکثرےت اس تجارت سے وابستہ ہے لےکن ےہ امر قابل افسوس اور قابل مذمت ہے کہ ہمارے عوام کے واحد ذرےعہ معاش پربھی پابندی عائد کی جاتی ہے حالانکہ وہ محنت مزدوری کرکے اپنی روزی اور دووقت کی روٹی کمارہے ہےں ۔ جبکہ سودی خوری ، دہشتگردی ، منشےات اوراسلحہ کی اسمگلنگ کی پشتونخوامےپ مخالفت کرتی ہے ۔بےان مےں کہا گےا ہے کہ ڈےورنڈ لائن پر پابندی کے باعث روزانہ سےنکڑوں مرےض جس مےں خواتےن بڑے بوڑھے ،بچے شامل ہوتے ہےں اور دونوں طرف سے آتے جاتے رہتے ہےںکو بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بےان مےں کہا گےا ہے کہ جہاں روزگار کے مواقع نہےں ہونگے وہاں جرائم کے واقعات بھی تشوےشناک حالت تک بڑھ جاتے ہےں ۔ پارٹی بےان مےں مطالبہ کےا گےا ہے کہ چمن باڈر کو فی الفور کھول کرڈےورنڈ لائن پرسرحدی تجارت سے منسلک تمام تجارت کی اجازت دی جائے اور تجارت کی راہ مےں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ کرکے بےروزگاری کے خاتمے کےلئے اقدامات اٹھائےں جائے جبکہ باڈر کی بندش کے باعث متاثرہ ہونےوالے چھوٹے تاجروں کی گھروں کی مالی مدد کی جائے اور انہےں اشےاءخوردونوش واشےاءانسانی زندگی کی ضرورےات کی فراہمی کو ےقےنی بنائی جائے
