سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز قومی احتساب بیورو (نیب) کے آفس کے باہر موجود ہیں جہاں لیگی کارکنوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے اور پھراؤ کی وجہ سے حالات کشیدہ ہیں۔ قومی احتساب بیورو لاہور نے مریم نواز کو رائے ونڈ میں خلاف قانون اور خلاف ضابطہ اراضی انتہائی سستے داموں خریدنے کے معاملے میں انکوائری کے لیے طلب کر رکھا تھا لیکن نیب دفتر کے باہر کشیدگی کی وجہ سے نیب نے مریم نواز کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے۔ لیکن مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز جاتی امرا رائے ونڈ سے ایک جلوس کی شکل میں نیب آفس پہنچی جہاں لیگی کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اس دوران پولیس کی جانب سے روکنے کی کوشش پر ن لیگی کارکن مشتعل ہوگئے جس کے بعد کارکنوں نے بیرئیرز کو ہٹانے کی کوشش اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ نیب آفس کے باہر پولیس اور مظاہرین میں خوب دھکم پیل دیکھی جارہی ہے جب کہ ن لیگ کے کارکنوں کی گاڑیوں میں پتھروں سے بھرے تھیلے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس موقع پر پولیس نے کارکنوں نے نیب دفتر کی جانب جانے سے روکا جس پر ن لیگ کے کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز پر رائے ونڈ میں خلاف قانون اراضی انتہائی سستے داموں خریدنے کا الزام ہے، شریف خاندان کی جانب سے 2013 میں 3568 کنال اراضی خلاف قانون خریدی گئی اور سب سے زیادہ زمین نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ شمیم بی بی کے نام منتقل ہوئی جو 1936 کنال تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے نام 12 ،12 ایکڑ زمین منتقل ہوئی اور زمین منتقلی میں ایل ڈی اے کے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا جب کہ 2015 میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کے توسط لاہور کا ماسٹر پلان تبدیل کروایا گیا جس کے تحت شریف فیملی کی زمین کے ارد گرد تمام رقبے کو گرین لینڈ قرار دے دیا گیا جو شریف فیملی کی اراضی کے ارد گرد تعمیرات کو روکنے کے لیے کیا گیا۔
