یوکرین کے دارالحکومت کیئو کے قریب رات بھر ہونے والے روسی حملوں میں ایک بچے سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں، یہ بات ایک مقامی عہدیدار نے بتائی۔
صبح سویرے دارالحکومت کے مشرق میں میزائل گرے، اور عینی شاہدین نے طاقتور دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب چند روز قبل پورے یوکرین میں ہونے والے حملوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے کہا کہ بیلسٹک میزائل حملوں میں تین افراد ہلاک اور مزید تین زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گرنے والے ملبے سے رہائشی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جبکہ ایک الگ عمارت میں آگ بھی لگ گئی۔
کیئو کے میئر ویتالی کلچکو نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ ہنگامی امدادی ٹیمیں شہر میں ایک عمارت اور ایندھن کے ٹینک میں لگی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔
یوکرین کی سرکاری ہنگامی سروس ڈی ایس این ایس نے تصاویر جاری کیں جن میں کیئو میں گیراج، ایک کاروباری مقام اور ایک عمارت کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سروس نے کہا ’متاثرین کی تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے۔‘
صدر وولودیمیر زیلنسکی اپنے پہلے دورے پر سربیا کے دارالحکومت بلغراد پہنچ گئے ہیں۔ وہ سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ سے ملاقات کریں گے، جس میں اقتصادی تعلقات، سکیورٹی کے مسائل اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر بات ہوگی۔
سربیا یورپی یونین میں شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے یوکرین کو امداد فراہم کی ہے، جبکہ جنگ کے بعد ملک کی تعمیرِ نو میں مدد کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
ہفتے کے آغاز میں زیلنسکی نے کہا تھا کہ شراکت دار ممالک کی جانب سے اینٹی بیلسٹک نظاموں کی فراہمی میں تاخیر ’خوفناک جانی نقصان اور تباہی‘ کا سبب بن رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ مضبوط دفاعی صلاحیت حالیہ مہلک حملوں میں ’جانیں بچا سکتی تھی‘۔بعد میں صدر نے کہا کہ اتحادی ممالک کی جانب سے دفاعی میزائلوں کی فراہمی میں اس سال ’نمایاں کمی‘ آئی ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب یوکرین نے روس کے اندر دو آئل ریفائنریوں اور بحیرہ اسود میں ماسکو سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنایا۔ زیلنسکی کے مطابق اس کا مقصد تیل سے حاصل ہونے والی ان آمدنیوں کو محدود کرنا تھا جنہیں روس یوکرین میں جنگ کی ’مالی معاونت‘ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حالیہ ثالثی مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث دونوں فریقوں کے درمیان حملوں میں مزید شدت آ گئی ہے۔






