کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ وفاق کراچی کو اپنائے مگر یہاں تو سندھ کے ٹکڑے کرنے کی بات کی جا رہی ہے، سب سن لیں سندھ صوبہ نہیں، ماں ہے، جس کی کسی قیمت پر ٹکڑے ہونے نہیں دیں گے۔ کسی کے دماغ میں فتور ہے تو نکال دے۔ ان خیال کا اظہار انھوں نے وزیراعلیٰ ہاو¿س میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کرونا سے نجات حاصل کرنے میں کامیابی ملی۔ دیگر صوبوں نے کرونا کے معاملے پر ہمیں فالو کیا۔ صورت حال بہتر ہے لیکن کرونا ابھی مکمل ختم نہیں ہوا۔ کچھ لوگ آج آئین کو پامال کرنے کی بات کر رہے ہیں، جو ان کا خواب ہی رہے گا۔صوبے کی تقسیم سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ ہماری ماں ہے،کسی کو اس کے ٹکڑے نہیں کرنے دینگے۔ یہ لوگ سندھ کے نہیں بلکہ پاکستان کے دشمن ہیں۔ کچھ لوگ آج آئین کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، آئین میں 4صوبے ہیں، جن کے اختیارات واضح ہیں۔ کراچی پورے ملک کو چلاتا ہے، یہ سب کو معلوم ہے۔ سندھ کے ٹکڑے کرنے کی بات کرنیوالے پاکستان کے دشمن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اسمبلی میں تقریر میں کہا تھا سندھ ہماری ماں ہے،ماں کے کوئی ٹکڑے کرنے کی بات کرے گا تو سامنے ہم کھڑے ہوں گے، اسمبلی میں کچھ لوگ بیٹھے رہے تھے، میں ان کو سندھ نہیں پاکستان کا دشمن کہوں گا۔کسی بھی حالت میں کسی کے دماغ یہ فطور ہے وہ نکال دے، ایسی باتوں سے سندھ کے لوگوں کو دکھ پہنچتا ہے۔ یہ باتیں پلی بار نہیں ہورہی ہیں، ان کو جب مرضی ہوتی ہے صورتحال تبدیل کرنے کی۔سندھ حکومت اور اسمبلی کی ایگزیکٹو پاور کسی کے ساتھ شیئر نہیں ہوسکتی، اختیارات کے ساتھ کسی کو چھیڑ چھاڑ نہیں کرنے دیں گے، وفاق سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا، کمیٹی بنی نہیں صرف بات ہی ہے، سیاسی جماعتوں کی کمیٹیاں سیاسی کاموں کیلئے بنتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہندوستان کشمیر کے ساتھ کیا کررہا ہے، اس طرف سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔کراچی سندھ کا دارالخلافہ ہے، کراچی پورے پاکستان کو چلاتا ہے ، کراچی میں بارش کے بعد باتیں شروع ہوئی، کراچی میں حالات خراب ہوئے، ملک کے اور حصوں میں بھی بارش ہوئی، وہاں اس سے زیادہ حالات خراب تھے۔ہمارے پاس مسائل ہیں اس پر کوئی دو رائے نہیں ہے، یہ باتیں سپریم کورٹ تک گئی۔انہوں نے کہا کہ وفاق میں کچھ لوگ غیر سنجیدہ ہیں، سوچ سمجھ کر بات نہیں کرتے، اب وفاق خود ہم سے بات کرنے کو تیار ہے، این ڈی ایم اے وفاق کی اجازت کے بغیر کوئی کام نہیں کرسکتا۔ سندھ حکومت کا مو¿قف ہے،آئین کے مطابق کام کریں گے۔ تنقید کی جاتی ہے کہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ مانتا ہوں کچھ کام نہیں ہوسکے۔ کیا کروں وفاق سے پیسے نہیں ملتے۔ 2 سال سے وفاق نے 245 ارب روپے نہیں دیئے۔ ہم نے کبھی کراچی میں این ڈی ایم اے کو کام سے نہیں روکا۔ مسائل کےباعث 26 جولائی تک نالوں کی صفائی مکمل نہ ہوسکی۔ ورلڈ بینک کے پراجیکٹ کے تحت نالوں کی صفائی ہوئی۔ بارشوں سے کراچی کے حالات خراب ہوئے۔ این ڈی ایم اے نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیں بھیجا ہے۔ میئر کراچی نے سندھ حکومت سے نالوں کی صفائی کا کہا۔ سندھ حکومت نالوں کی صفائی کا کام کر رہی تھی۔ یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ نالے مکمل صاف ہوچکے۔چیف جسٹس نے بھی این ڈی ایم اے کو صفائی کی ہدایت کی۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ وفاق کراچی کو اپنائے۔ این ڈی ایم اے وفاق کا ادارہ ہے۔ایگزیکٹو رول حکومتوں کا کام ہے، ہم نے کہا کہ ہم وفاق کے ساتھ ملکر کام کرنے کےلیے تیار ہیں، پہلے مجھے بلایا بھی نہیں جاتا تھا، پھر خود ٹیبل پر بیٹھے۔این ڈی ایم اے کے چیئرمین جنرل ہیں۔وہ پہلے بھی ہم سے کئی بار ملکر گئے ہیں ، بڑی باتیں کی گئی کہ ایگریمنٹ ہوگیا ہے۔ہمارا موقف ہے کہ ہم آئین اور قانون کے حساب سے کام کریں گے۔کچھ لوگ باتوں کو سمجھتے نہیں ہیں، وہ بہت سی ایسی باتیں کرتے ہیں جو آئین میں نہیں ہوتی ہیں۔آگے اور بھی میٹنگ ہوں گی، نہ کوئی ایگریمنٹ ہوا ہے نہ کمیٹی بننے کی باتیں ہوئی ہیں۔ابھی کوئی کمیٹی بنی نہیں ہے۔سیاسی جماعتوں کی کمیٹی سیاست کے لیے بنتی ہیں۔ہم سے اگر کسی جماعت نے باتیں کرنی ہیں تو ہم نے کبھی دروازے بند نہیں کیے۔کوئی سو بار آکر مجھے سے شہر اور صوبہ کے مسئلہ کےلیے ملے۔کبھی کسی کو منع نہیں کیا ہے۔میں واضح کرتا ہوں۔میں پارٹی کی پالیسی پر چلوں گا۔پارٹی کی پالیسی آئین پر چلے گی۔کراچی میں برسات پہلی بار نہیں ہوئی ہے ، 1954 ءکی گاڑی گڑے میں گرنے تصویر بھی دیکھی ہوگی۔ہم 2008ءکے بعد کی بات کریں۔کہتے ہیں سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ہمیں جب کہا گیا تھا کہ 245ارب دیں گے نہیں دئیے گئے۔ایف بی آر کا ٹارگٹ پورا کرنے کےلیے سندھ حکومت سے مدد لیتے ہیں۔پہلے ایف بی آر کو کو سدھراو۔آپ کے فیلر سے سارے صوبے متاثر ہوتے ہیں۔میں نے جو پلان بناے ہیں اگر 245 ارب نہیں ملیں گے تو میں کہاں سے پورے کروں گا۔2007ء میں جب برسات ہوئی تھی، 200افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ہم بھی اسی شہر کے رہنے والے ہیں ہم نے بھی سب کچھ دیکھا تھا، 2009ء کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ نے پریس کانفرنس میں 2007 ءاور 2009 ءکی تصویریں بھی دکھائی۔جب پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالی۔2020 ءمیں 150 ملی میٹر بارش ہوئی۔جن جگہوں پر بارش سے لوگ متاثر ہوئے میں وہاں جاو¿ں گا۔گزشتہ 11 برسوں میں جو ہم نے کام کیا اس سے کافی صورتحال بہتر ہوئی۔ہمیں بتایا گیا کہ تجاوزات ہیں۔یہ ہم نے نہیں کیا ہے۔یہ سارا ملبہ ادھر ڈالا دیا گیا ہے۔ان کو شہر کا پتا کچھ نہیں ہے۔جن لوگوں نے شہر کا یہ حال کیا ہے میں تفصیل میں نہیں جاو¿ں گا۔یہ سب میں نے نہیں کیا ہے۔ہم نے جہاں کام کیا وہاں پانی جمع نہیں ہوا۔شاہراہ فیصل چار گھنٹے میں کلئیر ہوگیا تھا۔ٹریفک بلکل بند نہیں ہوا تھا۔ہم نے جو بھی انڈر پاس بنائے اس میں پانی جمع نہیں ہوا۔ایشو اس وقت بھی ہوے ہیں۔ناظم آباد میں جو کنسٹرکشن ہوئی ۔ڈی ایم سی سینٹرل کے خطوط موجود ہیں۔جہانگیر پارک کی پہلے صورتحال آپ نے دیکھی تھی۔شاہراہ فیصل کو تین سے چار لین ہم نے کیا۔شہید ملت کے اندر پاسز آپ نے دیکھا ہوگا۔انڈر پاس میں ایک قطرہ پانی کا نہیں تھا۔ہم نے 38 پروجیکٹ کیے ہیں۔ابھی کچھ مکمل ہونے والے ہیں۔ائیر پورٹ سے قائد آباد تک بھی ہم روڈ کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔سعید غنی اور ناصر حسین شاہ اور مرتضیٰ وہاب نے شہر کا دورہ کیا۔انہوں نے آپ کو بتایا تھا کہ شہر میں پانی فوری ختم ہوا۔ہم نے ایف ٹی سی سے اسٹار گیٹ تک فور لین کیا ہے۔شاہراہ فیصل کے انڈر پاس میں پانی کھڑا نہیں ہوا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں برسات پہلی بار نہیں ہوئی، بارشوں سے متعلق پرانی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں، نالوں کی صفائی کا کام بہت پیچیدہ ہے، کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانا اہم مسئلہ ہے، مسائل کی اہم وجہ نالوں کے اطراف تجاوزات ہیں، مسائل کے حل کیلئے سب کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں، کراچی میں برسات پہلی بار نہیں ہوئی۔ بارش کے باعث کراچی کے حالات بہت خراب ہوئے۔ وفاق کی نااہلی سے تمام صوبے مشکل میں ہیں۔ ماضی کا سارا ملبہ آج پیپلز پارٹی پر ڈالا جا رہا ہے۔ پہلے کہتے تھے کہ ساتھ نہیں بیٹھیں گے،اب تڑپ رہے ہیں۔ کراچی میں1977ءمیں260ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ 2009میں24 گھنٹے میں 125ملی میٹر بارش ہوئی۔ تنقید کی جاتی ہے کہ سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ ابھی تک آرڈیننس کے تحت کوئی کمیٹی نہیں بنی۔ نارتھ ناظم آباد کو کمرشلائز کردیا گیا۔ کس نے کیا میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ ثابت کرسکتا ہوں شارع فیصل 5 گھنٹے سے زیادہ بند نہیں رہی۔کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ جو انڈر پاسز صاف کیے گئے وہاں پانی نہیں جمع ہوا۔ 27 جولائی کو بارش میں خود نکلا تھا۔ساری کابینہ سڑکوں پر موجود تھی۔لیاری پسماندہ علاقہ ہے وہاں بڑی روڈ پر پانی جمع نہیں ہوا۔چھوٹی گلیوں میں کہیں پانی کھڑا ہوگا۔وفاق کا کام بھی ہم نے کیا لوگوں کی تکلیف کا احساس ہے۔ملیر میں بھی پبلک اسپیس بنا رہے ہیں۔ہم 22 اور پبلک اسپیس بنائیں گے۔ہم نے 40 ارب روپے خرچ کرنے ہیں۔ممبئی میں 80ارب روپے پراپرٹی ٹیکس جمع کررہا ہے۔ہم دو ارب روپے بھی جمع نہیں کر پاتے ہیں۔ہم شہر میں چھ سوئس پروجیکٹ بنائیں گے۔تین سندھ حکومت خود بنائے گی۔ہم سوچ نہیں رہے ہیں۔پروجیکٹ بنا رہے ہیں۔ہمارے کام کو لوگ بتانے کےلیے تیار نہیں ہیں۔65 ایم ڈی جی کا کافی عرصہ سے چل رہا ہے۔ہم اس کو بھی مکمل کریں۔ گے۔ہم وفاق کے ساتھ کے فور بھی کررہے ہیں ، 128 ارب کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کررہے ہیں۔230 ملین ہر سال دیتے ہیں۔ٹیچر ٹریننگ کے لیے بھی ہم کررہے ہیں۔ملیر ایکسپریس وے کو دو سے تین سال میں مکمل کرالیں گے۔پروجیکٹس مکمل ہونے میں وقت لگتا ہے۔حب کی واٹر سپلائی میں شیئر ہے۔کراچی میں بھی پروجیکٹس ہیں۔پوری دنیا میں جہاں ایسی بارش ہوتی ہےتو مسائل ہوتے ہیں۔ ہم نے کراچی پر خاص توجہ دی ہے۔لوگوں کو جو یہ پیش کیا جارہا ہے کہ ہم کچھ نہیں کررہے۔یہ غلط پیش کیا جارہا ہے ،ہمیں ایشو آتے ہیں۔ورلڈ بینک سے ہم خود نہیں بلکہ وفاق کے زریعے بات کرتے ہیں۔ہم ملکر کام کرنے کو خوش آئیند کہتے ہیں ۔وزیراعظم 3 بار بھی بلائیں گے تو صوبے کی خاطر جاو¿ں گا۔ کبھی نہیں کہا کہ کسی سے نہیں ملوں گا۔ انہیں نہ کام کرنا آتا ہے اور نہ یہ ہمیں کرنے دینگے۔ مجھ پر کسی کا دباو¿ نہیں ہے۔صوبے کے پیسے استعمال کرتے ہیں لیکن ہم سے ملنے کےلیے تیار نہیں۔صوبے کی خاطر میں کسی سے بھی کواپریٹ کرنے کےلیے تیار ہوں۔ہم اسمبلی کو جواب دیں ہیں۔اگر کوئی روڈ پر بیٹھ کر کہتا ہے کہ ان کو موقع دے رہے ہیں۔یہ ان کی کم عقلی ہے۔چینی ایک سو پانچ روپے کلو ہوگئی۔بہت کمشن بناے جب کمشن بنا چینی 55روپے تھی اور اب ایم سو پانچ ہے۔ہمیں کہا جاتا ہے آٹا ریلیز کریں۔گندم کہاں گئی یہ چیزیں لوگوں کو بتائیں۔عوام کو بتائیں یہ کہاں گیا ہے۔صرف ہر معاملے میں کہتے ہیں سندھ حکومت کا قصور ہے۔ان کو خود کام کرنا نہیں آتا ہے بلیم ہمیں کرتے ییں۔یہ باتیں کرکے صوبے کے لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔اس صوبے کے لوگوں کا خیال رکھیں۔سندھ حکومت کو جتنا بھی بدنام کرنا چاہیں کریں ۔یہ جو باتیں کررہے ہیں نہ کریں۔صوبے اور وفاق کے تعلقات پر انہوں نے کہا کہ سیاست میں کبھی دروازے بند نہیں ہوتے۔متحدہ قومی موومنٹ کا اپنا اور پی ٹی آئی کا اپنا ووٹ بینک ہے۔ہم حکومت سے بات کررہے ہیں۔شاید گورنمنٹ لیول پر کمیٹی بنے۔کوئی ایڈمنسٹریٹر یا اپروول نہیں ہے۔وفاق کی مرضی ہے جس کو بھی ممبر بنائے ،ہماری مرضی جس کو بھی ممبر بنائیں۔ضلع وسطی کےلیے ہم نے کنسٹریکشن بنا رہے ہیں۔سارا سندھ ہمارا ہے۔ہم سارے سندھ پر بھی بریفنگ دیں گے۔ملاقاتیں ہونا خوش آئیند ہیں۔ خفیہ کوئی بات نہیں ہوئی۔ایڈمنسٹریٹر صوبائی حکومت کا اختیار ہے۔مشورہ کسی سے بھی ہوسکتا ہے۔کراچی کے ایڈمنسٹریٹر پرآپس میں کچھ ناموں پر غور ہورہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے اوپر کسی کا دباو¿ نہیں ہے۔سندھ کے عوام کا مینڈیٹ ہےصوبے کے لوگ میری طاقت ہیں ،میرے ساتھ کبھی بھی کسی آرٹیکل کی بات نہیں ہوئی۔میں دباو¿ لینے والا شخص نہیں ہوں۔مراد علی شاہ کے سامنے آئین کے بارے میں کوئی حجت نہیں کرسکتا ہے۔اٹارنی جنرل سے بات ہوئی ہے اس مسئلے پر بات نہیں ہوئی۔ہم چاہتے ہیں جلد سے جلد بلدیاتی انتخابات ہو جائیں۔22 اگست 2016ء تقریر ہوئی تھی۔اتنا بڑا بحران ہونے کے باوجود ہم نے الیکشن کرائے تھے۔سنسز ابھی تک اپرو نہیں ہوا ہے۔ہم قانون کو بہتر کرنے کےلیے پہلے سے ہی کام کررہے ہیں۔ہر چیز میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے۔اس میں کسی بھی طرف سے تجاویز آئیں گی تو ہم غور کریں گے۔اس ملک میں جو اس وقت شدید بحران ہے۔ کشمیر میں بھارت مظالم ڈھا رہا ہے۔گزشتہ تین دنلگاتار کراچی کی باتیں ہورہی ہیں ۔جس کے دماغ میں خناس ہے وہ نکال دے۔سندھ کے آئینی اختیارات کی کسی کے ساتھ شئیرنگ نہیں ہوگی۔ سندھ حکومت کا مو¿قف ہے کہ آئین کے مطابق کام کرینگے۔ جس کے ذہن میں فتور ہے وہ نکال دے۔ چاہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات جلد ہوجائیں۔ گھر بیٹھے قانون بنا کر اسمبلی سے پاس نہیں ہوجائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں اگر پیپلز پارٹی کسی کو جواب دے ہے تو وہ سندھ کے لوگوں کو ہے۔آئندہ انتخابات میں پھر ہم عوام میں ہیں جائیں گے۔ہم نے پہلے سے زیادہ سیٹیں لی ہیں۔لوگوں کو یاد نہیں رہتا ہے اس لیے یہ دیکھایا ہے۔ اینکر کون ہے میں نہیں جانتا ہوں۔سختی سے تردید کرتا ہوں۔اگر کسی ادارے کو ملائن کرنے کوشش کی گئی ہے تو میں سختی سے تردید کرتا ہوں۔سپریم کورٹ نے بہت سی ہدایت دی ہے ان کو قانونی شکل بھی دینی ہے۔سی سی آئی کی میٹنگ میں بھی بات ہوئی تھی
