امریکی اسپیشل فورسز کے ایک سابق افسر کو روس کے لیے جاسوسی کے الزام کا سامنا ہے۔ استغاثہ کے مطابق فوجی افسر نے فوجی راز ماسکو کو فراہم کیے تھے۔ امریکی وزارتِ انصاف کے مطابق جس فوجی پر جاسوسی کی فرد جرم عائد کی گئی ہے، اس کا نام پیٹر رافائل ڈزیبنسکی ڈیبینز ہے اور اس کی عمر پینتالیس برس ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس فوجی افسر نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک اہم فوجی راز روس کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ استغاثہ کے بیان میں واضح کیا گیا کہ ڈیبینز خفیہ روسی ایجنٹوں کے سامنے فخر سے اظہار کرتا تھا کہ وہ ”فرزند روس‘‘ ہے۔ امریکا میں پیدا ہونے والے سابق فوجی افسر ڈیبینز کو روسی خفیہ ادارے نے سن 1996 میں امریکی فوج کی معلومات فراہم کرنے کی ذمہ داری تفویض کی تھی، حالانکہ وہ اس وقت امریکی فوج کا ملازم بھی نہیں تھا۔ اس طرح سے روسی خفیہ ایجنٹوں نے ایک نوجوان طالب علم کو خفیہ سرگرمیوں کے لیے تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ ذمہ داری ملنے کے بعد ڈیبینز نے کئی مرتبہ روس کے دورے بھی کیے۔ یہ امر اہم ہے کہ سابق امریکی فوجی افسر کی والدہ روس سے تعلق رکھتی تھیں۔ استغاثہ کے مطابق سن 2011 تک ڈیبینز روسی ایجنٹوں کو حساس معلومات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔ عدالت میں جمع کردہ دفتر استغاثہ کی فرد جرم میں بیان کیا گیا کہ فوجی افسر ڈیبینز کا خیال تھا کہ ساری دنیا پر امریکی اجارہ داری اور تسلط غیرمعمولی ہے اور اس میں کمی وقت کی ضرورت ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ڈیبینز امریکی فوج میں شمولیت کے کچھ ہی عرصے بعد اسے خیرباد کہنا چاہتا تھا لیکن روس کے خفیہ ایجنٹوں کی ہدایت پر اس نے اپنی فوجی ملازمت کا سلسلہ جاری رکھا۔ مبینہ امریکی جاسوس پیٹر رافائل ڈزیبنسکی ڈیبینز نے امریکی اسپیشل فورسز المعروف ‘گرین بیرٹس‘ میں شمولیت سن 2001 میں اختیار کی تھی۔ ملازمت کے دو برسوں بعد اس کو ترقی دے کر کیپٹن بنا دیا گیا۔ اپنی ملازمت کو دوران سکیورٹی کلیئرنس کے بعد اس کی تعیناتی پہلے جرمنی اور پھر وسطی ایشیائی ریاست اور سابق روسی جمہوریہ آذربائجان میں کی گئی تھی۔
