ڈھاکا: مسلم اکثریت ملک بنگلہ دیش کے دارالحکومت میں ہزاروں مسلمانوں نے سڑکوں پر آکر فرانس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ میں شائع غیرملکی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ مظاہرے میں مسلمانوں نے فرانسیسی صدر ایمانیوئل میکرون کی جانب گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا دفاع کرنے کی مخالفت کی۔ خیال رہے کہ یورپی ملک فرانس سمتبر سے اس وقت سے نشانے پر ہے جب وہاں ایک میگزین چارلی ہیپڈو نے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی تھی، جس کے بعد اس کے سابق دفاتر پر حملے، استاد کا سرقلم اور نیس میں چرچ پر حملے کے واقعات بھی رونما ہوئے تھے۔ فرانسیسی صدر ایمانیوئل میکرون کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ اس بڑھتی کشیدگی پر ہفتے کو عرب ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹریو میں کہا گیا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ خاکے چونکانے والے ہوسکتے ہیں تاہم انہوں نے اس کے پیچھے فرانس کی ریاست کے ہونے کو ’جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی تھی۔ تاہم بنگلہ دیش میں مظاہرین نے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کو میکرون اور ریاست سے جوڑا اور اس سلسلے میں بڑی تعداد میں لوگ باہر آئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ 50 ہزار سے زائد لوگوں نے مارچ میں حصہ لیا، جس میں کورونا وائرس کے سماجی فاصلے کے قانون کو نظر انداز کیا گیا جبکہ مظاہرین نے فرانسیسی صدر کا پتلا اور ایک تابوت بھی اٹھائے رکھا تھا۔






