صوبائی مختاری کو تسلیم کیا جاتا تو بنگلہ دیش الگ نہ ہوتا ‘ آسٹریلیا میں جزیرے خریدنے ‘ پیزا فروخت کرنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے ‘ سردار اختر مینگل

صوبائی مختاری کو تسلیم کیا جاتا تو بنگلہ دیش الگ نہ ہوتا ‘ آسٹریلیا میں جزیرے خریدنے ‘ پیزا فروخت کرنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے ‘ سردار اختر مینگل

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

لاہور ‘ بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے لاہور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے اس عظیم الشان جلسہ میں بیٹھے سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے کارکن مبارکباد دیتا ہوں آج کے جلسے کے منتظمین کو مبارکباد پاکستان مسلم لیگ ‘ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں جن کے جھنڈے اس پنڈال میں لہرا رہے ہیں اس پنڈال میں موجود دوستوں ساتھیوں کو میرا سلام ‘گجرانوالہ ‘ کراچی ‘کوئٹہ ‘ ملتان اور آج لاہور کے جلسے جن کو یہاں کے حکمران جلسیوں کا نام دیتے ہیں جن جلسوں کو انہوں نے ہر ٹی وی پروگرام میں جلسیوں کا نام دیا میں بھی ان کو جلسے نہیں کہتا غیر جمہوری قوتوں کا ‘ آمروں کی پیداوروں ‘ 70سالوں سے ملک کے آئین کو گھر کی لونڈی سمجھا وہ قوتیں جنہوں نے زنجیروں سے حکمرانی کی ان جلسوں کو ان کی نماز جنازہ سمجھتا ہوں آج کے اس جلسے کے آخر میں مولانا صاحب ان آمروں اور ان قوتوں کا جنہوں نے 70سالوں سے استحصال کیا ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے ہم بلوچستان سے جو لوگ ان پنڈال میں آئے ہیں میری باتوں اور الفاظوں کو نہ ہی آپ گلہ سمجھیں نہ میرا شکوہ سمجھیں میں تو صرف مختصراً 70سالوں میں بلوچستان کے لوگوں نے جو کچھ برداشت کیا ہمارے خون کے چند قطرے آپ کی خدمت میں رکھوں گا اور فیصلہ آپ کریں کہ بلوچستان میں جو سورش ہے کیا اس کے قصور وار ہم یا کوئی اور ہے 70سالوں سے ہم نے کوئی ایک دن چھین کا نہیں دیکھا 70سالوں میں بہت کچھ کھویا ہمارے بچے چھین لئے ‘ گاﺅں اجھاڑ دیئے گئے ماﺅں بہنوں کے سامنے نوجوانوں بچوں کا قتل عام کیا گیا مگر ہم نے جمہوریت کا علم بلند رکھا آج جس غیر جمہوری اور آئین شکن حکمرانوں کے خلاف آج آپ برسرپیکار ہیں خلاءمخلوق کے خلاف پنڈال میں جمع ہیں آج جس قوت کے خلاف جس نے آئین کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر ردی کی ٹھوکری میں پھینکا ہم ان کی دہشت وحشت کا 70سالوں سے مقابلہ کر رہے ہیں غیر انسانی فیصلوں کا ذمہ دار کون ہے آپ تحمل سے میری بات سنیں 70سالوں سے جو ظلم و زیادتیاں ہو رہی ہیں آپ چند برسوں سے اس کو بھگت رہے ہیں اس کے ذمہ دار وہ نہیں یہاں کے سیاست دان اور بڑا صوبہ ہے جو پنڈال میں موجود ہے اگر روز اول سے لگام دیتے تو آج خوفناک ہتھیار نہ بنتا جن کو قابو کرنا بھی آپ کی ذمہ داری بنتی ہے اہلیان لاہور و پنجاب کیا آپ اس ملک کو بچھانا چاہتے ہیں یا نہیں اگر بچھانا ہے تو خلائی مخلوق کو اس ڈگر پر پہنچنا پنجاب کی ذمہ داری بنتی ہے ملک عوام کیلئے بنا ہے آواز ‘ چیخ پکار ‘ نعروں یا ڈھنڈوں سے ثابت کرانا چاہتے ہیں یہ ذمہ داری آپ کی بنتی ہیں ملک کو دوسرا بنگلہ دیش نہیں بنانا تو اس کو لگام دینا ہو گا ہم بلوچستان کے لوگوں کو ایک برابر کی شہری کی حیثیت سے مانا جائے ہمیں انسان کا رتبہ دیں ملک کے باشندے کے رتبہ دیں جہاں آپ چاہیں ہم آپ کے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہیں بحیثیت غلام ایک دن بھی چلنے کو تیار نہیں مجھے اپنی سرزمین کی مٹی اتنی عزیز جتنی آپ لوگوں کو عزیز ہے فصلیں اور کھیت آپ کو مبارک ان سے ہمیں کچھ نہیں چاہئے مجھے میری سوکھی مٹی قابل احترام ہے اپنے سمندر کا پانی میرے لئے سر آنکھوں پر ‘ معدنیات کا حقدار بلوچوں میں رہنے والا ہے پانچ آپریشن ہو چکے کسی اور فوج نہیں ہم پر آپریشن نہیں کئے انگریزوں نے 200سال حکمرانی کی ہم پر ہمارے ہی فوج نے آپریشن کیا ہم اسمبلیوں میں موجود ہیں آئین کی حفاظت کی مگر ہماری عزتوں کی حفاظت کیلئے کوئی نہیں نکلا 10ہزار نوجوان لاپتہ ماﺅں ‘ بہنیں در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں مگر ان کے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں بے شک تم ہمیں مارو ہم پر ظلم کرو ‘ گھر جلا دو گاﺅں جلا دو مگر ہم اپنے حقوق کی آواز لگائیں گے کوئٹہ کے جلسے میں مریم نواز آئیں تھیں وہ خود آپ کو بتائیں گے کہ بچیاں کس کس رو رو کر اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے درخواستیں ہیں آج مینار پاکستان جہاں قرارداد پاکستان منظور کی گئیں جس میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوری ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے گا انگریزوں کے غلامی سے چھٹکارا حاصل کر کے ان کی غلامی میں دھکیل دیا گیا ہے اسلامی نظام ہوتا تو بھائیوں بتائیں کہ کہاں لکھا ہے کہ ایک مرے ہوئے شخص کے تابوت پر تالے لگا دیئے ہیں اسلامی تاریخ میں کس کی لاش میں ان کے ورثاءکو شریک نہیں کیا گیا منتخب نمائندوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا جمہوری ممالک میں کہاں مینڈیٹ پر آئے وزیراعظم کو جلاوطن کیا گیا یہ تمام واقعات اس ملک میں ملتے ہیں صوبے خود مختار ہوتے تو بنگلہ دیش نہ بنتا آئین کی بالادستی ہوتی تو آئین کا حلف لینے والے خود آئین کو پامال نہ کرے جمہوریت ہوتی تو 31سال مارشل لاءنہ لگتا داخلہ ‘ خارجہ پالیسی ان کے بل بوتے پر بنتے ہیں کاروبار بھی ان کے ہاتھ میں ہے ڈی ایچ اے ‘ ایف ڈبلیو او بنا ہوا ہے اگر یہی سلسلہ رہا تو 15سالوں بعد لاہور میں قبرستان کی بھی جگہ نہ ہو احتساب ہونا چاہئے سب کا ہونا چاہئے سب سے پہلے سیاستدان کا ہونا چاہئے لیکن آسٹریلیا میں جزیرے خریدنے ‘ دبئی کے مشرف ‘ پیزا فروخت کرنے والوں کا بھی ہونا چاہئے ملک کے خواتین کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کرنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے عمران اور اس کے وزراءکہتے ہیں کہ وہ ایک پیج پر ہیں ہم کہتے ہیں آپ سب ایک کتاب والے ہیں ایک پیج والے نہیں گوادر کو ایسٹ ویسٹ جرمنی کی طرز پر تقسیم کیا جا رہا ہے گوادر کی مقامی آبادی کو بے دخل کیا جا رہا ہے ماہی گیروں کو ماہی گیری سے روکا جا رہا ہے ہم ترقی کے خلاف نہیں مگر وہ ترقی جس میں وجود خطرہ میں ہو اس کو برداشت نہیں کروں گا میری زبان ‘ نام مٹنے کی ترقی کو قبول نہیں کروں گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!