تلور شکار ، قطری شاہی خاندان کو قلات ، سوراب ، تربت ، نصیرآباد ،  ڈیرہ بگٹی کے خصوصی اجازت نامے جاری

تلور شکار ، قطری شاہی خاندان کو قلات ، سوراب ، تربت ، نصیرآباد ، ڈیرہ بگٹی کے خصوصی اجازت نامے جاری

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کراچی: وفاقی حکومت نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ان کے اہلخانہ کے 14 دیگر افراد کو 2020-21 کے شکار کے موسم میں بین الاقوامی سطح پر محفوظ تلور کا شکار کرنے کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کردیے۔ ذرائع کے مطابق دیگر شکاریوں میں قطر کے امیر کے والد، بھائی، قطری وزیر اعظم، مشیر، سابق وزیر اعظم کے بھائی اور شاہی خاندان کے دیگر چند افراد شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود قطریوں کی گرفت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں سرکاری فائلیں، سمریز وغیرہ ملک میں سست رفتار سے آگے بڑھ رہی ہیں وہیں قطر کے امیر کی جانب سے چند اضافی شکار کے علاقوں کی اجازت کی درخواست موصول ہونے کے پانچ روز میں دے دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ امیر کے والد کے لیے مختص علاقے کو ان کی خواہش کے مطابق 5 دن کے اندر ان علاقوں سے تبدیل کردیا گیا جو پہلے شاہی خاندان کے ایک نسبتا کم اہم رکن کو مختص کیے گئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 16 اکتوبر کو وزارت خارجہ میں ڈپٹی چیف آف پروٹوکول (پی اینڈ آئی) کے ذریعہ جاری کردہ اجازت نامے 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں واقع قطر کے سفارت خانے کو پہنچائے گئے تھے تاکہ یہ خلیجی ریاست سے تعلق رکھنے والے شکاریوں کو بھیجی جاسکیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اجازت نامے کے مطابق امیر ریاست شیخ تمیم بن حمد الثانی کو پنجاب کے ضلع جھنگ اور سندھ کے کشمور اور مٹیاری اضلاع مختص کیے گئے ہیں۔ وہ شکار کے چند مزید علاقے چاہتے تھے لہذا ان کی خواہش 22 اور 26 اکتوبر کو ظاہر کی گئی اور انہیں مطلوبہ علاقوں یعنی سندھ کے صحرا اسلام کوٹ اور ڈپلو تحصیل الاٹ کردی گئیں۔ امیر کے والد شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کو پنجاب میں قلعہ عباس کو چھوڑ کر بہاولنگر ضلع الاٹ کیا گیا تھا تاہم چونکہ انہیں یہ علاقہ پسند نہیں تھا اس لیے یہ شیخ جاسم بن فیصل بن قاسم بن فیصل الثانی کے ساتھ بدل گیا جنہیں پہلے پنجاب کا ضلع خوشاب مختص کیا گیا تھا۔امیر کے بھائی شیخ جاسم بن حمد الثانی کو بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں موسیٰ خیل اور داروگ تحصیل دیئے گئے ہیں۔قطری وزیر اعظم شیخ خالد بن خلیفہ بن عبد العزیز کو سندھ میں ضلع جیکب آباد مختص کیا گیا ہے، امیر کے مشیر شیخ محمد بن خلیفہ الثانی کو بلوچستان میں لورالائی (دکی کے علاوہ) دیا گیا ہے۔ سابق وزیر اعظم کے بھائی شیخ فلاح بن جاسم بن جابر الثانی اور ان کے ایک اور رشتہ دار شیخ فہد بن فلاح بن جاسم بن جبار الثانی کو مشترکہ طور پر بلوچستان میں ضلع جھل مگسی مختص کیا گیا ہے۔ شاہی خاندان کے ایک فرد شیخ فیصل بن ناصر بن حمد الثانی کو بلوچستان میں کاکڑ خراسان اور قمرالدین کاریز سمیت ضلع قلعہ سیف اللہ الاٹ کیا گیا ہے۔ شاہی کنبے کے دیگر افراد کے نام اور ان کے لیے مختص علاقوں کی تفصیل یہ ہے۔ شیخ محمد بن علی بن عبد اللہ الثانی (ضلع برخان)، شیخ ثانوی بن عبد العزیز الثانی (ضلع قلات میں تحصیل سوراب)، شیخ علی بن عبد اللہ ثانی الثانی (تربت / ضلع کیچ)، شیخ خالد بن ثانی الثانی (دادو شہر)، شیخ فہد بن عبد الرحمن بن حمد الثانی (بلوچستان کے علاقے نصیرآباد) اور فیصل بن قاسم بن فیصل الثانی (بلوچستان میں ضلع ڈیرہ بگٹی رپورٹ کے مطابق ابو ظہبی کی ایگزیکٹو کونسل کے ایک رکن اور شاہی خاندان کے ممبر شیخ سلطان بن تہنون النہیان کی سربراہی میں ایک وفد شکار کے لیے منگل کو تھرپارکر پہنچ گیا۔متحدہ عرب امارات سے آنے والے شاہی مہمانوں کے لئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔وفد نواب شاہ ایئرپورٹ پر اترا وہاں سے اس نے تھرپارکر تک زمینی راستے سے سفر کیا۔میرپورخاص ایڈیشنل کمشنر نے 8 دسمبر کو ڈپٹی کمشنر تھرپارکر محمد نواز سوہو کو خط لکھا تھا اور ہدایت کی تھی کہ وہ علاقے میں شاہی مہمانوں کے قیام کے دورنا ان کے لیے فول پروف سیکیورٹی اور مکمل پروٹوکول کو یقینی بنائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!