جان محمد گرگناڑی کے اغواءپر حکومت و انتظامیہ کی خاموشی بے بسی کا اظہار ‘ چند لوگوں کو سردار اختر مینگل کی پذیرائی ہضم نہیں ہو رہی ‘ آغا حسن بلوچ

جان محمد گرگناڑی کے اغواءپر حکومت و انتظامیہ کی خاموشی بے بسی کا اظہار ‘ چند لوگوں کو سردار اختر مینگل کی پذیرائی ہضم نہیں ہو رہی ‘ آغا حسن بلوچ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ (پ ر ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ایم این اے آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے مذمتی بیان میں میر جان محمد گرگناڑی کی تاحال عدم بازیابی ‘ اغواءپر صوبائی حکومت کی مجرمانہ خاموشی ‘ ملزمان کی نشاندہی کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے یہ بات واضح ہے کہ گھناﺅنی سازش کے تحت بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے میں حکمران اور انتظامیہ کے ارباب و اختیار ملے ہوئے ہے ڈیتھ سکواڈ کی پرورش کرنے والے آج بلوچستان کو مزید بحرانی کیفیت سے دوچارکرنا چاہتے ہیں دن دیہاڑے پارٹی رہنماءمیر جان محمد گرگناڑی کو اغواءکرنے کے بعد ملزمان کی نشاندہی ہونے کے باوجود عدم گرفتاری اور مرکزی رہنماءکو ابھی تک بازیاب نہ کرنے سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں جنگل کا قانون ہے دیدہ دانستہ طور پر ڈیتھ سکواڈز کے رحم و کرم پر بلوچستان کے فرزندوں کو رہنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ کوئی دانشمندی نہیں بلوچستان کے اصل ارباب و اختیار کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلوچستان میں امن و خوشحالی ‘ بلوچستان کے حالات کو بہتری کی جانب لے جانا چاہتے ہیں تو ایسے لوگوں کو لگا دیں اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائیں ڈیتھ سکواڈ کے ماضی کی کارستانیوں کے ساتھ بلوچستان کے حالات مخدوش ہو چکے ہیں اب ایک بار پھر میر جان محمد گرگناڑی کو اغواءکرنے کے بعد اغواءکاروں کے خلاف کارروائی نہ کرنا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہمیشہ قومی جمہوری سیاست پر یقین رکھا سیاست میں حق و سچائی ‘ قومی حقوق کے حصول ‘ بلوچستان کے بقاءو سلامتی ‘ جغرافیہ کی حفاظت کیلئے ہمیشہ مستقل مزاجی کے ساتھ جدوجہد کرتی آ رہی ہے ڈکٹیٹر ہوں یا سول حکمران حق و سچائی اور مخلصی کے ساتھ عملی طور پر غیر متزلزل انداز میں اپنے عوام کے حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کی آج بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کر رہے ہیں وہاں پر بلوچ ‘ بلوچستانی عوام ‘ حقوق کے حصول اور مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں بہت سے لوگوں کو یہ بہت ہضم نہیں ہو رہی بی این پی ملکی و بین الاقوامی سطح پر اپنے ساحل وسائل کی بقاءکیلئے جمہوری انداز اپنا کر حکمرانوں کو ان کے استحصالانہ پالیسیوں کے بارے میں بتا رہے ہیں جو آخری کیل ثابت ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ فوری طور پر جان محمد گرگناڑی کو بازیاب اور اغواءکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے کسی کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہئے کہ وہ لشکر بنا کر مسلح ہو کر عوام کا جینا محال کر دیں قتل و غارت گری ‘ اغواءکاری کا بازار گرم رکھے انہوں نے کہا کہ بی این پی آج سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے بلوچ باشعور عوام اب یہ جان چکے ہیں کہ حق و سچائی ‘ عملی اخلاص کے جدوجہد ‘ قومی تشخص ‘ زبان و ثقافت و تاریخ و تمدن کی حفاظت کی خاطر جدوجہد کرنے والے کے ساتھ ایسی روش وطیرہ رہا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!