زیارت(خ ن)وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ شہداءقوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، وطن کے امن، سلامتی اور استحکام کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ حکومت شہداءکے لواحقین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن کفالت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زیارت کے شہداءکے لواحقین میں معاونتی چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر نور محمد دمڑ، انسپکٹر جنرل پولیس محمد طاہر خان، دیگر اعلیٰ حکام، شہداءکے لواحقین اور علاقائی عمائدین نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے تقریب سے قبل شہداءکے لواحقین سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت کی ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ زیارت ہمیشہ خوشیوں کی سرزمین رہی تاہم حالیہ سانحے نے پورے صوبے کو غمزدہ کر دیا ۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں نے نہ صرف معصوم جانیں لیں بلکہ درجنوں خاندانوں کو غم میں مبتلا کیا تاہم ان کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا نہ اسلام سے کوئی تعلق اور نہ ہی بلوچ یا پشتون روایات سے۔ بے گناہ شہریوں، خواتین، بچوں اور مسافروں کو نشانہ بنانا انسانیت اور اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان پولیس، فرنٹیر کور، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور پوری قوم ان کی قربانیوں کی مقروض ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد عناصر اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کا حصہ بننے کی بجائے ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں اور دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ زیارت واقعے کی شفاف تحقیقات کے لئے پہلے ہی اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم کی جا چکی ہے جس میں دیانتدار اور تجربہ کار افسران کو شامل کیا گیا ہے۔ اگر کسی افسر یا اہلکار کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی بھی ذمہ دار شخص کو نہیں بچائے گی اور انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہداءکے خاندانوں کی دیکھ بھال حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شہداءکے بچوں کی 16 سال تک تعلیم کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی اور انہیں ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں گے تاکہ وہ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، پائلٹ یا اپنی پسند کے کسی بھی شعبے میں آگے بڑھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداءکے اہل خانہ کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، ہر شہید کے خاندان سے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے گی جبکہ شہداءکے لواحقین کو تمام قانونی اور انتظامی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ انہیں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت نے شہداءکے لواحقین کے لئے ایک کروڑ دس لاکھ روپے فی خاندان معاوضے کی منظوری دی ہے۔ ادائیگی کے لئے تمام فنڈز جاری کر دیے گئے اور قانونی تقاضے بشمول سکسیشن سرٹیفکیٹ کی تکمیل کے بعد رقوم متعلقہ ورثاءکو منتقل کر دی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حیثیت صرف ایک وزیر اعلیٰ کی نہیں بلکہ ایک بلوچ بھائی کی بھی ہے اور وہ ہمیشہ شہداءکے خاندانوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہاو¿س سمیت ان کے دروازے ہر وقت شہداءکے لواحقین کے لئے کھلے ہیں اور ان کے مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی، قومی اتحاد اور ریاستی اداروں کا استحکام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دشمن قوتیں انتشار اور نفرت پھیلانا چاہتی ہیں لیکن پوری قوم متحد ہو کر ان سازشوں کو ناکام بنائے گی ،وزیر اعلیٰ نے شہداءکے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی، لواحقین کے لیے صبر جمیل اور پاکستان کی سلامتی، امن اور ترقی کے لئے خصوصی دعا کی ۔





