سرکار سرفراز اور سرمچار بشیر زیب لے گیا، سردار اختر مینگل کیلئے کچھ باقی نہ رہا ، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بشیر زیب ، ڈاکٹر اللہ نذر ، رحمان گل ، ڈاکٹر ماہ رنگ کا مقابلہ کریں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے ، انوار الحق کاکڑ

سرکار سرفراز اور سرمچار بشیر زیب لے گیا، سردار اختر مینگل کیلئے کچھ باقی نہ رہا ، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بشیر زیب ، ڈاکٹر اللہ نذر ، رحمان گل ، ڈاکٹر ماہ رنگ کا مقابلہ کریں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے ، انوار الحق کاکڑ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:سابق نگران وزیراعظم و سینیٹر انوار الحق کاکڑ کاسردار اختر مینگل کے خطاب پر رد عمل دیتے ہوئے انٹرویو میں کہنا ہے کہ میں آج دن تک سردار اختر مینگل کو سیاسی کارکن ، سیاسی رہنماء، سیاسی شخصیت کے طور پر دیکھتا تھاایسا لگتا ہے کہ موصوف حواس باختگی کا شکار ہو چکے ہیں بقول سردار اختر مینگل میر غوث بخش بزنجو سردارعطاءاللہ مینگل کے سیاسی استاد تھے کیا اپنے ہی والد کے استاد کو بابائے سوداگر کہہ کر پکارنا غیرت ہے انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ڈیرہ بگٹی میں نواب بگٹی کو موصوف نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ایک گولی کے بدلے سو گولیاں چلیں گی جوآج ان کے بڑے بھائی کے خلاف چل رہی ہیں نواب صاحب نے جن کا مقابلہ کرنا تھا وہاں تک تو گولیاں نہیں پہنچیں ہاں اپنے گھر میں وہ گولیاں دائیں بائیں چلا رہے ہیں پرواسٹیبلشمنٹ سیاست کرنے پر سردار اختر مینگل ہمیں ناپسند کرتے ہیں یا نفرت کرتے ہیں یہ ان کا حق ہے قدوس بزنجو کے دور حکومت میں ان کے ایم پی ایز کی محبتیں ، صادق سنجرانی ان کو پسند ہیں ، جنرل باجو ہ کی توسیع دینی تھا اس وقت ان کا ووٹ دینا قابل قبول تھا لوگوں کے غیرت کاپیمانہ ، سرٹیفکیٹ دینا ان کاکام ہے سردار اختر مینگل انقلابی رہنماءبن کر کبھی لاپتہ افراد ، کبھی ساحل وسائل پر بولتے ہیں جب اقتدار میں ہوں تو 10ارب روپے ملتے ہیں تو ان کو مسنگ پرسن یاد نہیں آتے اپنے بھائی کے جائیداد پر قبضہ کرنے والا شخص بلوچستان کے عوام کو ان کے سیاسی ، معاشی ،معاشرتی حقوق کیسے دلوائے گا کہاں میر غوث بخش بزنجو اور کہاں سردار اختر مینگل ، اگر اختر مینگل سمجھتے ہوئے ہیں کہ وہ بشیر زیب ، ڈاکٹر اللہ نذر ، رحمان گل ، ڈاکٹر ماہ رنگ کا مقابلہ کریں گے تو یہ اختر مینگل کی غلط فہمی ہے سرفراز سرکار لے گئے اور سرمچار بشیر زیب لے گئے تو اختر مینگل کیلئے کچھ باقی نہیں رہا اس لئے وہ کبھی میرے غیرت کا پیمانہ دیکھتے ہیں اور کبھی کسی اور کے ، یہ سیاسی بیمار ذہن کی عکاسی ہے اور کچھ نہیں ، میں عام مڈل کلاس ہوں پے در پے ناکامیاں سردار مینگل کو پریشان کر رہی ہیں موصوف شیخ مجیب بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے