حکومت کا نئے صوبوں کے قیام پر اکتوبر میں پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا اعلان

حکومت کا نئے صوبوں کے قیام پر اکتوبر میں پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا اعلان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

وفاقی حکومت نے نئے صوبوں کے قیام کے اہم اور حساس معاملے کو اکتوبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پارلیمانی اجلاسوں میں باضابطہ بحث کے لیے لانے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر کے مہینے میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا کوئی اجلاس نہیں ہوگا، جبکہ یہ سیشنز اکتوبر میں طلب کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئے صوبوں کے قیام جیسے اہم قومی اور آئینی معاملے پر سیر حاصل گفتگو کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس ہی واحد اور موزوں ترین فورم ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی آئینی حیثیت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اسلام آباد کو الگ صوبہ بنانے کی کوئی تجاویز زیرِ غور نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم حکومت دارالحکومت کے لیے ایک بالکل نیا انتظامی اور گورننس ماڈل متعارف کرانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ادھر میڈیا رپورٹس میں کہا جاتا رہا ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی نظام کی جگہ ایک نیا فریم ورک قائم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ مجوزہ ماڈل کے تحت دارالحکومت کے لیے 27 رکنی اسمبلی کی تشکیل اور انتظامی سربراہ کے لیے وزیراعلیٰ یا میئر کا عہدہ تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ یہ انتظامی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 9 جنوری 2026 کو نافذ کیا جانے والا ‘اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس’ اپنے 240 دن کی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد ختم ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل، بالخصوص جنوبی پنجاب اور دیگر خطوں کے مطالبات طویل عرصے سے سیاسی منظرنامے پر موجود ہیں۔ پارلیمنٹ میں اس موضوع کو بحث کا حصہ بنانا معاشی و انتظامی وسائل کی منصفانہ تقسیم کی سمت ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ ستمبر میں ایوان کے وقفے کے بعد اکتوبر میں شروع ہونے والا پارلیمانی سیشن ملکی قانون سازی اور آئینی اصلاحات کے لحاظ سے انتہائی تحرک کا حامل ہونے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے