امریکی نئی حکومت کو ایران پر پہنچے ہوئے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا: ظریف

امریکی نئی حکومت کو ایران پر پہنچے ہوئے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا: ظریف

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

تہران،: ایرانی وزیر خارجہ نے بحیرہ روم ڈائیلاگ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں صدرات کا عہدہ سنھبالنے والے نئے صدر کو ایران پر پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف” نے آج بروز پیر کو اطالوی انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی اور خارجہ پالیسی مطالعات کے زیر اہتمام میں منعقدہ بحیرہ روم ڈائیلاگ کے اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون امریکی صدراتی الیکشن کے فاتح ہوں گے ہمارے لیئے اہم بات ہے کہ واشنگٹن ایران سے متعلق اپناتے ہوئے رویے کو سدھار دے۔ظریف نے مزید کہا کہ امریکہ میں صدرات کا عہدہ سنھبالنے والے نئے صدر کو ایران پر پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا۔انہوں نے ایرانی قوم کیخلاف امریکی معاشی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ امریکہ نے ایرانی ادویات کیخلاف پابندی نہیں لگائی ہے، کو جاننا چاہیے ایران میں کہ بینکی پابندیوں کی وجہ سے ادویات کی خریداری کا امکان نہیں ہے۔ظریف نے سفارتکاری کو عالمی مسائل کے حل کیلئے سب سے موثر طریقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی جوہری معاہدے سفارتکاری کی سب سے عظیم کامیابی تھی جو سنجیدہ اور طویل مذاکرات سے حاصل ہوا۔انہوں نے کہا کہ ایران نے جوہری معاہدے سے متعلق اپنے تمام وعدوں کا پورا کیا ہے اور ہم نے پوری ہوشیاری سے اس معاہدے پر دستخط کیا لہذا ہم جوہری معاہدے کے اختلافات کے حل کے مکنیزم کو مناسب وقت اور طریقے پر استعمال کیا۔ظریف نے اختلافات کے حل کے میکنزم کے نفاذ کو نہ صرف جوہری معاہدے کے خلاف بلکہ اس کے اصولوں کے عین مطابق قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کے نفاذ ہونے کے پانچ سال گزرنے کے بعد یورپی فریقین کی بد عہدی اور بعض اراکین کیجانب سے اس معاہدے کے نفاذ میں روڑے اٹکانے کی وجہ سے ایران کو اس معاہدے کے معاشی ثمرات سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ ظریف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، فلسطینی مسئلے کے حل میں دو آزاد ریاستوں کی تشکیل کے منصوبے کے مخالف ہے اور حتی کہ ان لوگوں کو بھی جو دو ریاستوں کے حل پر یقین رکھتے ہیں انہیں یہ جاننا ہوگا کہ امریکی پالیسی نے دو ریاستوں کے حل کیلئے کوئی واضح نظریہ نہیں چھوڑا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!