چیف ایگزیکٹو ز آفیسرز زیرواور انٹیلی جنس آفیسر ہیرو

چیف ایگزیکٹو ز آفیسرز زیرواور انٹیلی جنس آفیسر ہیرو

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

محمد رمضان اچکزئی

سرد جنگ کے زمانے میں جب روس عالمی سطح پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا متبادل سپر پاور تھا تو اس زمانے میں روس کی سڑکیں سردی کے دوران اور عام دنوں میں گرم پانی سے دھوئی جاتی تھیں۔ اسلحہ ، جہازوں اور ایٹم بم دفاع کیلئے موجودتھے ۔ملک معاشی طور پر مستحکم اور عوام خوشحال تھے۔ روس کے زوال میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ایجنسیوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا ۔ سی آئی اے کے ایک اہم عہدیدار کے مطابق انہوں نے روس کے اداروں میں نااہل سربراہوں کے مقرر کرنے میں کردار ادا کیا جس کے بعد ادارے روبزوال اور تباہ ہوئے اور بالآخر روس تقسیم ہوا اور کئی نئے ملک بن گئے۔جنگ میں روس کوہرانا مشکل تھا لیکن معاشی طور پر اس کو تباہ کرکے اس کی یکجہتی اور سلامتی کو نقصان پہنچایا گیا۔آج ہمارے ملک کا دفاع مضبوط ہے ، بہادر فوج ،ایٹم بم سمیت لڑاکا جہاز ،ٹینک اور میزائل وطن کی دفاع کیلئے دستیاب ہے ۔ ایسے حالات میں جنگ کے ذریعے اس ملک کو نقصان پہنچانا بڑی حد تک مشکل ہو چکا ہے لیکن اس ملک کے بدخواہ اور دشمن چاہتے ہیں کہ اس ملک کو معاشی طور پر اتنا کمزور کیا جائے کہ اس ملک کی آزادی سلب ہو ، ادارے مفلوج ہو جائےں ، سیاست اورجمہوریت ناکام ہو، اداے ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے ہو کر ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی بجائے ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے ملک کی یکجہتی اور سلامتی کو نقصان پہنچائے۔ان حالات میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت ملک کی معیشت کو چلانے کیلئے پاور سیکٹر کا اہم رول ہے لیکن اس ملک پر حکمرانی کرنے والے حکمرانوں نے 1994 کے بعد واپڈا جیسے قومی ادارے کوواپڈا سمیت کئی کمپنیوں میں تقسیم کر دیا۔ہر کمپنی کیلئے الگ الگ بورڈ آف ڈائریکٹرز بنائے گئے ، ہر کمپنی میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کئی جنرل منیجرز، چیف انجینئرز اوراعلیٰ سطح پر آفیسروں کی فوج ظفر موج لگائی گئی جو ایس ڈی او 20 سال کے بعد ایکسین بن سکتا تھا اور عمر کے آخری حصے میں سپرنٹنڈنگ انجینئر یاچیف انجینئر کے عہدے پر پہنچ سکتا تھا وہ چند ہی سالوں میں ان عہدوں ترقی پاتے ہوئے جنرل منیجر کے گریڈ 21 تک پہنچ گئے۔ واپڈا کے دور میںسرکاری سرپرستی میں ڈیم بنائے جارہے تھے۔ سستے پاور ہاﺅسز بنائے جارہے تھے، بڑی بڑی ہائی ٹینشن لائنیں،500KV ،220KV اور 132KV بنائی جارہی تھی اور اسی طرح اسی کیپسٹی کے گرڈ اسٹیشن 500KV ،220KV اور 132KV گرڈ اسٹیشن اسلام آباد سمیت ملک کے چاروں صوبوں کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں بن رہے تھے۔ بجلی سستی اور وافر مقدار میں موجود تھی ۔ ملک میں تجارت، صنعت، زراعت اور کارخانے ترقی کر رہے تھے اور گھریلو صارفین کے معیار زندگی میں بہتری پیدا ہو رہی تھی۔لوگوں کو معاشی خوشحالی دستیاب ہو رہی تھی۔ ملک کے اس ترقی کو بیرونی طاقتوں نے ٹارگٹ بناکر بالآخر پاور سیکٹر میں آئی پی پیزاور آرپی پیزکے سرمایہ داروں کی انٹری کروا دی اور اس طرح بجلی مہنگی اور لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ملک سے زرمبادلہ بیرون ملک منتقل ہونا شروع ہوا اور اس وقت پاور سیکٹر کی انکوائری رپورٹ کے مطابق 51 کھرب روپے سے زیادہ لوٹ مار ہوئی ہے اور اس میں تمام حکمرانوں نے اپنے اپنے حصے کی لوٹ مار کرکے بیرون ملک رقوم منتقل کرنے کے بعد جائیدادیں خریدی ہےں اور وہیں پر اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت کے ساتھ ساتھ دوہری شہریت کے مزے اٹھائے جارہے ہیں اور پاکستان ان کیلئے صرف چراگاہ بن چکا ہے جس میں وہ عوام کے وسائل کو لوٹ کراپنے اثاثے بیرون ملک منتقل کرنے میں کوئی شرمساری محسوس نہیں کرتے ۔ سابقہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں واپڈا کوتقسیم کرکے پانی اور بجلی کے الگ الگ محکمے بنا کر واپڈا کو تباہ کر دیا اور پاور ڈویژن کیلئے لگائے گئے سیکریٹریز کو پے درپے تبدیل کیا جاتا رہا ہے کیونکہ پاور سیکٹر میں سرکولر ڈیٹ کی وجہ سے سیکریٹریز پر عدم اعتماد کیا گیا۔ اس وقت پاور سیکٹر سے متعلق تمام فیصلے پروفیشنل بنیادوں کی بجائے سیاسی بنیادوں پر کئے جارہے ہیںاس کی ایک مثال گزشتہ دنوں سوئی ڈیرہ بگٹی میں سامنے آئی جس میں سوئی ڈیرہ بگٹی کے ایک ایم این اے کی فرمائش پرعلاقے کے عوام کو مفت بجلی 20 گھنٹے دینے کی اجازت دی گئی اور اس علاقے کیلئے MVA 10/13کے ٹرانسفارمروں کو 20/26MVA پر لے جانے کی ہدایت کیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ملی اور اس سلسلے میں وعدہ کیا گیا کہ اس علاقے کے بل OGDCL کی کمپنی ادا کرے گی جوکہ ناممکن ہے۔ اسی طرح سیاسی بنیادوں پر سبی سے 15 کلو میٹر پر 132KV گرڈ اسٹیشن ڈھاڈر کے مقام پر بنایا جانا اور دالبندین سے ماشکیل تک 170 کلو میٹر غیر قانونی لائن بنانے کے ساتھ پورے صوبے میں لاکھوں غیر قانونی کنکشنز چلائے جانے سے کیسکوکمپنی کو ہر ماہ 3.5 سے 4 ارب روپے خسارہ ہو رہا ہے۔ زمینداروں اور دیگر سرکاری اداروں کے ذمے کیسکو کے 335 ارب روپے واجب الادا ہیں لیکن حکومتی سطح پر کیسکو کی کوئی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے کیسکو مالی طور پر تباہی کے دہانے پہنچ چکی ہے۔حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت نے پاور ڈویژن کیلئے نئے سیکریٹری اور اسپیشل سیکریٹری کی تقرر ی عمل میں لائی ہے جن کی اہلیت اور صلاحیت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاسکتا لیکن بد قسمتی سے ان دو جہان دیدہ تجربہ کار آفیسروں نے کمپنیوں کے سربراہوں اور بورڈز کے ممبروں سے متعلق کمپنیز ایکٹ 1984 امینڈڈ تاحال اور کمپنیز گورننس رولز 2013 کا جائزہ لینے اور ان کمپنیوں کے سربراہوں سے ان کی مشکلات کی بات کئے بغیر ان اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والے سیکریٹری صاحبان نے ریٹائرڈ انٹیلی جنس آفیسر سے رہنمائی حاصل کی جس نے اپنی ناقص کارکردگی اور تعیناتی پر مفت کی تنخواہیں لینے پر پردہ ڈالتے ہوئے 200 آفیسروں اور اہلکاروں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے انھیں عہدوں سے تبدیل کرایا ۔ ان اقدام سے کمپنیوں کی کاکردگی میں کوئی بہتری نہیں آئے گی بلکہ اس اقدام نے کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو ز پر عدم اعتماد کرکے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کو زیرو بنایا اور ریٹائرڈ انٹیلی جنس آفیسر کو ہیرو بنا کر غلط فیصلے کی ابتدا کر دی گئی ہے۔ وزارت پاورڈویژن کے ان دو سیکریٹریز کو معلوم ہونا چاہیے کہ کمپنیوں کیلئے ٹرانسفر پالیسی ناقص بنائی گئی ہے بلکہ اس بدحال معاشی حالات میں آفیسروں کے ترقی کے دوران تبادلوں پر انھیں دو، دو تنخواہیں دینے، تین مہینے میں ایک ہفتے کی چھٹی بمعہ ٹی اے، ڈی اے، 10 ہزار روپے ڈگری الاﺅنس دینے، گاڑی اور کنونس الاﺅنس دونوں غیر قانونی طور پر دینے، ہیڈ آفس میں 10 ہزار روپے الاﺅنس دیئے جانے، تعلیم کیلئے تمام اخراجات کمپنیوں سے دینے، موت کی صورت میں آفیسر کو ایک کروڑ تک اور غریب ملازمین کو چندلاکھ روپے دے کر امتیازی سلوک روا رکھنے کی پالیسی کو ختم کرنے کی ضرورت تھی۔ وزارت پاور ڈویژن کو چاہیے تھا کہ وہ تمام کمپنیوں کے بورڈ زاور سربراہوں کی قانون کے مطابق تقرری کرتے ، انھیں اہداف دیتے کہ وہ کمپنیوں کے خسارے کو ختم کرے، بجلی چوری کو روکے، واجب الادا بجلی کے بل وصول کرے، حکومت کی سرپرستی دینے، ادارے میں ڈسپلن قائم کرتے، قانونی اور بجلی کا بل دینے والے صارفین کی شکایات کا ازالہ کرتے اور ان کے مسائل حل کرتے ، کام کرنے والے مزدوروں کی زندگیوں کو کام کے دوران تحفظ دیتے، ان کے جائز مسائل حل کئے جاتے، نچلے اسٹاف کی کمی کو پورا کرکے کمپنیوں کو خسارے سے محفوظ بناکر سرکولر ڈیٹ کا مسئلہ حل کرتے اور اس سلسلے میں ضروری تھا کہ انٹیلی جنس آفیسر سے باز پر س ہوتی کہ انہوں نے بڑے بڑے اسکینڈل پر آنکھیں کیوں بند کی ہوئی ہےں اور ان کی ملازمت سے چھٹی پہلی ترجیح ہوتی اور ساتھ ہی پیپکو میں بیٹھے ہوئے لاکھوں روپے کے تنخواہ لینے والے آفیسروں کی فوج ظفر موج کو ختم کرتے ہوئے ان کی بھی دوسری کمپنیوں میں تبادلے کرکے ایک شفاف انتظامی انتظام کا آغاز کرکے آنے والے دنوں میں بجلی کے بحران کے حل کیلئے کمپنیوں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرکے واپڈا کو یکجا کرکے ملک کو معاشی طور پر استحکام کی طرف لے جاتے ۔ ملک کے معاشی استحکام ملک کی سلامتی ،یکجہتی اور خوشحالی کی ضامن ہے جس میں حکومت انتظامیہ کے آفیسرز، انجینئرز اور مزدور مل کر ایمانداری اور محنت سے کام کرتے ہوئے قومی ادارے کو قوم کے امنگوں اور اعتماد پر پورا اتارنے کا فرض ادا کرکے اس سیکٹر سے وابستہ افراد سب دلی طور پر مطمئن ہو سکتے ہیں۔موجودہ حکومت وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں تبدیلی کے نعرے کے ساتھ ریاست مدینہ کے رول ماڈل کے ساتھ اپنے اہداف حاصل کرنے کی عوام کو خواب دکھا رہی ہیں۔ اس دور حکومت میں کئی اسکینڈل جس میں آٹا، چینی، پاور اسکینڈل سمیت دیگر انکوائری رپورٹس جاری ہوئی ہےں لیکن ان رپورٹس کے نتیجے میں کوئی بھی چیز عوام کو سستی نہیں ملی بلکہ چیزیںمزید مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ اسی طرح تیل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں کم ہونے کے بعد جب سرکاری سطح پر تیل کی قیمتیں کم کی گئی تو پورے ملک میں پٹرول پمپس پر تیل نایاب ہوا اور پٹرول پمپ مالکان اور کمپنیوں نے بلیک میں تیل فروخت کرکے اربوں روپے غیر قانونی طور پر کمائے۔ عوام اس وقت ظلم ناانصافی، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم ،صحت جیسے بنیادی ضروریات سے دوری کی وجہ سے پریشان حال ہیں اور ان کی فلاح اور زندہ رہنے کیلئے حکومتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہےں جو کہ ایک ضروری امر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!