اسلام آباد: ایوان بالا کو وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے بتایاہے کہ پی آئی اے میںجعلی پائلٹس کے مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اورجعلی لائسنس جاری کرنے والے افسران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی انہوںنے بتایاکہ بیرون ممالک ائیر لائنز میں کام کرنے والے پائلٹس اوردیگر ملازمین کے دستاویزات کو کلیر کردیا گیا ،پی آئی اے کی نجکاری نہیں کی جائے گی اور نہ ہی روزویلٹ ہوٹل بیچا جائے گا۔جمعہ کے رو زسینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر جاوید عباسی نے توجہ دلا ﺅ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی وزیر ہوا بازی کی جانب سے بیان کے بعد پوری دنیامیں پاکستان کے پائلٹس کے متعلق باتیں شروع ہوگئی تھی اور پاکستان کے 260پائلٹس کی ڈگریوں کو جعلی قرار دیا گیا تھا انہوںنے کہاکہ وفاقی وزیر کے بیان نے پوری دنیا میں ہمارے لئے مسائل کھڑے کر دئیے ہیں اور دنیا کے ائیرلائنز نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے پائلٹس کو نوکریوں سے معطل کیا گیا انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت نے پوری دنیا میں پاکستان کا تماشہ لگا دیاہے اوردنیا سوچ رہی ہے کہ پاکستان کے پائلٹس کے پاس جعلی دستاویزات ہیں انہوںنے کہاکہ اگر کسی پائلٹ کے پاس جعلی لائسنس تھا اور اس کو سخت سزا دی جائے انہوں نے کہاکہ پائلٹس کا جو ادارہ لائسنس جاری کرتا ہے وہ کسی کی سفارش یا سیاسی دب ﺅ میں آنے والا نہیں ہے اور اگر یہ لائسنس واقعی جعلی تھے تو سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کرپشن کی ہے انہوںنے کہاکہ یہ کون لوگ ہیں جنہوںنے مختلف اوقات میںلائسنس جاری کئے ہیں انہوںنے کہاکہ ہوسکتا ہے کہ یہ الزامات درست ہوں تاہم پوری دنیامیں پاکستان کے دیگر ائیرلائنز میں موجود 164پائلٹس کامستقبل بھی تاریک کردیا گیا ہے انہوںنے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بیرون ممالک میں موجود پائلٹس کے لائسنس کو درست قرار دیا ہے اور اس وجہ سے پاکستان کی سیفٹی رینکنگ کو کم کردیا ہے انہوںنے کہاکہ وزیر ہمیں بتائیں کہ پی آئی اے کا اپریشن کن کن ممالک نے معطل کیا ہے اور یہ معطلی کب تک رہے گی اور کتنے پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں اور جن افراد نے یہ لائسنس جاری کئے ہیں ان کے خلاف کیا کاروائی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیںہے انہوں نے کہاکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک لیٹر بھی جاری کیا ہے کہ لائسنس جعلی نہیں ہیں کیا یہ 260پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں یا نہیں انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں جو رپورٹ پیش ہوئی ہے کیا وہاں پر یہ کہا گیا ہے کہ لائسنس تو درست ہیں مگر ان کی ڈگریاں جعلی ہیں سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہاکہ وزیر ہوازی بتائیں کہ کیا یہ درست ہے کہ یورپین یونین نے سیفٹی منجمنٹ سسٹم سے متعلق سوالات اٹھائے تھے انہوں نے کہاکہ کیا یہ درست ہے کہ حالیہ مہم کا مقصد پی آئی اے کی نج کاری کی راہ ہموار کرنا ہے انہوںنے کہاکہ جعلی پائلٹس کے معاملے پر سول ایوی ایشن کے افسران کو مورود الزاو¿و¿م کیوں نہیں ٹہرایا گیا ہے انہوںنے کہاکہ پی آئی اے کے سی ای او نے وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ پی آئی اے کے کھربوں روپے کے اثاثوں کو فروخت کرنا چاہیے اور یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی صدر روزویلٹ ہوٹل کی خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں انہوں نے کہاکہ روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کی منظوری وفاقی کابینہ نہیں دے سکتی ہے یہ مشترکہ مفادات کونسل کا معاملہ ہے انہوںنے کہاکہ کیا پائلٹس کا معاملہ اٹھا کر دوسرے ادارے کے پائلٹس کےلئے راہیں ہموار نہیں کی جارہی ہیں انہوںنے کہاکہ ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور وفاقی وزیر کے بیانات میں تضاد نہیں ہے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پائلٹس کے لائسنس کے حوالے سے سپریم کورٹ کو یہ رپورٹ جمع کرائی ہے کہ پائلٹس کے امتحانات میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں انہوںنے کہاکہ حکومت نے موجودہ سی ای او کی تعیناتی کےلئے دئیے جانے والے اشتہار میں جنگ ،ملٹری اپریشنز کی اہلیت بھی شامل کی تھی اور تجربہ بھی ایوی ایشن کے شعبے میں مانگا گیا ہے انہوں نے کہاکہ ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی کو فوری طور پر استعفی دینا چاہیے اور سی ای او کو بھی فوری طور پر ہٹانا چاہیے سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ پی آئی اے کو تباہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور عوام اب پی آئی اے کی بجائے دیگر ائیر لائنز میں سفر کرنے کو ترجیح دے رہی ہے انہوںنے کہاکہ ہمیں صورتحال کو دیکھنا ہوگا اور ایک خاص ایجنڈے پر کام کیا جارہا ہے انہوںنے کہاکہ موجود ہ حکومت ملک کے تمام اداروں کو اس نہج پر پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اس کو دوبارہ درست نہ کیا جاسکے توجہ دلا ﺅ نوٹس پر بات کرتے ہوئے وزیر ہوا بازی نے کہاکہ پی آئی اے کے حوالے سے بہت زیادہ سوالات کئے گئے ہیں اورپارلیمنٹرینز کے سوالات کے جوابات دینا ہماری ذمہ داری ہے انہوںنے کہاکہ پی آئی اے کے بارے میں عتراضات گذشتہ دو عشروں سے اٹھائے جارہے ہیں اور زیادہ تر سیفٹی معاملات پر پی آئی اے کو عالمی سطح پر نگرانی میںرکھا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کے حوالے سے وزیر اعظم کو بریف کیا گیا اور260پائلٹس جن کے لائسنس مشتبہ اور جعلی ہیں انہوںنے کہاکہ262 میں سے 28پائلٹس پر ثابت ہوگیا کہ ان کے لائسنس غلط طریقے سے لئے گئے تو وفاقی کابینہ سے ان کے لائسنس کینسل کئے گئے انہوں نے کہاکہ جیسے جیسے شوکاز ہوتے ہیں انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے لائسنس جاری کئے ہیں انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں جو جواب دیا گیا اس میں بھی 262 پائلٹس کے بارے میں بتایا گیا انہوںنے کہاکہ جعلی پائلٹس کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور ان تمام افسران کے خلاف کاروائی کی جائے گی جو اس میںملوث ہیں انہوںنے کہاکہ جو بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لوگ اس میں ملوث ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی ہوگی انہوںنے کہاکہ ہم نے اصل مجرم تک پہنچنا ہے انہوں نے کہاکہ اس کا مقصد کوئی سیاسی فائدہ حاصل کرنا نہیں ہے یہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے نیک نامی یا بدنامی اصل وجہ نہیں ہے انہوںنے کہاکہ ہماری نیت ٹھیک ہے ہم اس سارے امتحانی سسٹم کو ٹھیک کریں گے انہوںنے کہاکہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری نہیں بلکہ ری سٹرکچرنگ کریں گے اور پی آئی اے کے وقار کو بحال کریںگے انہوںنے کہاکہ پی آئی اے کے لائسنس کا طریقہ کار 2012میں تبدیل ہوا ہے انہوںنے کہاکہ جس وقت سے لوگ جعلی لائسنس کے حوالے سے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف کاروائی کریں گے انہوں نے کہاکہ حکومتی سطح پر کسی نے بھی یہ نہیں کہاکہ روزویلٹ ہوٹل کی خریداری میں امریکی صڈر ٹرمپ خواہشمند ہیں انہوں نے کہاکہ یہ بات بھی اپوزیشن نے پھیلائی ہے ہم موجودہ پائلٹس کو فارغ نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی دوسرے ادارے کے پائلٹس کو موقع دیں گے انہوں نے کہاکہ دیگر ممالک میں کام کرنے والے 166پائلٹس کے لائسنس درست قرار پائے ہیں جبکہ 10پائلٹس کے لائسنس بھی مشکوک ہیں انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کے سی ای او کی تعیناتی کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ اپنا فیصلہ کرے گی انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی تباہی کی ایک وجہ چیف ایگزیکٹیو کی تبدیلی ہے گذشتہ ۱۰ سالوں میں پی آئی اے کے11چیف ایگزیکٹیو تبدیل ہوئے ہیں اور بعض اوقات سیاسی بنیادوں پر اور یونین کے دباﺅ پر سی ای او کی تعیناتی ہوتی تھی انہوںنے کہاکہ اگر ادارے کے سی ای اوکی تعیناتی یونین کے زریعے سے ہو تو وہ ادارہ کس طرح ٹھیک ہوگا انہوں نے کہاکہ ایس بھی وقت آیا ہے جب پی آئی اے کا پورا جہاز چوری ہوجاتا ہے اور آج بھی جرمنی میں کھڑا ہے انہوںنے کہاکہ پی آئی اے میں احتساب ہوگااور اس سلسلے میں کسی بھی دباﺅ کو برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ گذشتہ 35سالوں سے ملک پر اقتدار کرنے والوں کو بھی اپنے آپ کواحتساب کےلئے پیش کرنا چاہیے انہوںنے کہاکہ پی آئی اے کی بہتری میں کسی قسم کی بددیانتی نہیں ہے ڈپٹی چیرمین نے وزیر ہوا بازی سے سوال کیا کہ کیاسول ایوی ایشن نے حکومت کی جانب سے پائلٹس کے لائسنس کو جعلی قرار دینے کے معاملے کو مسترد کیا ہے اور دیگر ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس کامستقبل کیا ہوگا انہوں نے کہاکہ دیگر10ممالک سے پائلٹس سمیت دیگر ملازمین کے بارے میں خطوط موصول ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر کلیئر ہوچکے ہیں انہوںنے کہاکہ سول ایوی ایشن کی جانب سے خط میں بتایا گیا کہ لائسنس درست ہیں تاہم ان لائسنس کے حصول کے طریقہ کار میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں ۔سینیٹر کلثوم پروین نے کہاکہ پی آئی اے کے ہفتے میں صرف دو فلائٹس کوئٹہ کےلے چلتی ہیںاور جب ہم بکنگ کراتے ہیں تو بتایا جاتا ہے کہ جگہ نہیں ہے مگر جب جہاز میں بیٹھتے ہیں تو پورا جہاز خالی ملتا ہے انہوںنے کہاکہ کوویڈ19کیوجہ سے جو ٹکٹ استعمال نہیں کر سکیںہیں ان کو استعمال کرنے کی اجازت دی جائے جس پر وفاقی وزیر نے کہاکہ عید الاضحیٰ کے بعد ملک میں اندرونی فلائٹس کی صورتحال بہتر ہوجائے گی۔
