کوئٹہ :چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہاہے کہ آج کا دن اہمیت کا حامل ہے ،اس دن ہم سے ہمارے پیارے چھینے گئے جن کے بچھڑنے کا غم ناقابل فراموش ہے،سانحہ8اگست کے شہدا کے لواحقین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ،صوبے میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں نئی جنریشن ہے،نوجوان وکلاءجو تیاری کے ساتھ پیش ہوتے ہیں ان کو دیکھ کر اپنے وکلاءکے بچھڑنے کی کمی محسوس نہیں ہوتی ،ہم نے ہمت نہیں ہارنا بلکہ ایک بار پھر نئے جذبے کے ساتھ جدوجہد کر ناہوگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے بلوچستان کی وکلاءتنظیموں کے زیراہتمام سانحہ 8اگست کے شہداءکی یاد میں قرآن خوانی سے قبل وکلاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز جسٹس نعیم اختر افغان ،جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس اعجاز سواتی ،جسٹس کامران ملاخیل ،جسٹس عبداللہ بلوچ،جسٹس نذیراحمد لانگو،جسٹس ظہیر الدین کاکڑ، جسٹس عبدالحمید بلوچ ،جسٹس روزی خان بڑیچ ،بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین منیراحمدکاکڑایڈووکیٹ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی سلیم لاشاری ،چیئرمین ہیومن رائٹس راحب بلیدی ایڈووکیٹ، بلوچستان ہائی کورٹ بار کے باسط شاہ ایڈووکیٹ، کوئٹہ بار کے آصف ریکی ایڈووکیٹ سمیت سینئر وکلاءودیگر کی بڑی تعداد موجود تھی ۔خطاب کرتے ہوئے جمال خان مندوخیل نے کہاکہ یقیناََ آج کا دن ہمارے لئے اہمیت کا حامل ہے اس دن ہمارے جسم کے حصے ہم سے چھین لئے گئے ،اپنے ساتھیوں کے بچھڑنے کا غم ناقابل فراموش ہے،ان وکلاءکی شہادت سے ایک خلاءپیدا ہوئی جس کو پرُ کرنے کیلئے مدتیں درکار ہیں لیکن ہمارے نوجوان وکلاءنے احسن طریقے سے اس خلاءکو پر کرنے کی کوشش کی ہے ،جمال مندوخیل نے کہاکہ کبھی کبھار ہم سختی کرتے ہیں اور اسی سختی کی وجہ سے وکلاءاگلے دن تیاری کے ساتھ آتے ہیں ،آج یہاں میرے جذبات اور احساسات خوشی اور غم دونوں کے ہیں ،ایک طرف اپنے ساتھیوں کے بچھڑنے کا غم جبکہ دوسری طرف نوجوان وکلاءجو تیاری کے ساتھ پیش ہوتے ہیں ان کو دیکھ کر اپنے وکلاءکے بچھڑنے کی کمی محسوس نہیں ہوتی ،انہوں نے کہاکہ یہ خوشی کی بات ہے کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیںبلکہ وکلا ایک بار پھر نئے جذبے کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں ہم نے اپنے سینئر سے بہت کچھ سیکھا اس سلسلے کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے ،شہداءکا کبھی نہیں بھلاسکیںگے ،ہم نے اپنا ہمت نہیں ہارنا ،آج ضلع کی سطح پر بھی وکلاءپیش ہوتے ہیں ہم درپیش مشکلات کے حل کیلئے ہرممکن کوشش کرینگے ،صوبے میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں نئی جنریشن ہے ججز وکلاءکی اسسٹنس سے انصاف پر مبنی فیصلے کرتے ہیں ،ایسے واقعات کی روک تھام حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے امید ہے کہ حکومت اپنی اس ذمہ داری کو پوری کرنے کیلئے اقدامات کرینگے بلکہ حکومت سے توقع ہے کہ وہ تمام مکتبہ فکر کے تحفظ کےلئے جامعہ پالیسی مرتب کریگی۔
