اراکین اسمبلی ہم پر جتنی چاہے تنقید کریں مگر ہمارے قومی اداروں پر تنقید نہ کریں ، صوبائی وزراء ، مشیر و پارلیمانی سیکرٹریز

اراکین اسمبلی ہم پر جتنی چاہے تنقید کریں مگر ہمارے قومی اداروں پر تنقید نہ کریں ، صوبائی وزراء ، مشیر و پارلیمانی سیکرٹریز

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزراءمشیر اور پارلیمانی سیکرٹریز میر ضیالانگو ،سردار عبدالرحمان کھیتران ،نور محمد دومڑ، میر اکبر اسکانی ، بشری رند اور دھنش کمار نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں رکن اسمبلی کے قومی ادارے سے متعلق غیر مناسب بات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ادارے کوکمزور کرنے کے بجائے مستحکم کرنا چاہیے ۔ اراکین اسمبلی ہم پر جتنی چاہے تنقید کریں مگر ہمارے قومی اداروں پر تنقید نہ کریں ملک او ر پاک فوج کے خلاف بات کرنے والوں کو برداشت نہیں کریں گے ، پاک فوج ہمارا قومی ادارہ ہے اس میں تمام اقوام کی نمائندگی ہے ،ہم اپنی فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملکر کھڑے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو نے کہا کہ گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ایک معزز رکن نے جو الفاظ استعمال کئے اس سے صوبے اور ملک کے لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہے پاک فوج کو پنجاب کی فوج کہنے پر عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے پاک فوج نے ملک اور قوم کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ، اپنی جانوں کا نذارنہ دیکر ملک کادفاع اور دہشتگردی کی شکست دی ہے فوج نے سیلاب ،کورونا سمیت ہر مشکل میں قوم کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا ہے یہ کسی صوبے کی نہیں پورے ملک کی فوج ہے ہم سیاست کریں مگر اپنے اداروں کے لوگوں کی دل ازاری نہ کریں ہمیں فوج کے نام پر سیاست اور بداعتمادی پھیلانے سے گریز کرنا چاہےے۔انہوں نے کہا کہ ،صوبے میں دہشتگردی کی کاروائیوں کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کی لہر میں بھارت ملوث ہے جو 14اگست کو خراب کرنے کے لئے صوبے میں دہشتگردی کی کاروائیاں کروا رہا ہے ہم نے دشمن کے کارندے اور ایجنٹس گرفتارکئے ہیں جلد ہی دہشتگردی پر قابو پالیا جائےگا ، صوبائی وزیر خوراک سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ بلوچستان میں پانچ سال تک حکومت کرنے والے قد آور شخصیت کے الفاظ کی مذمت کرتے ہیں وہ بتائے کہ پاکستان کا وہ کونسا قبرستان ہے جہاں پاکستانی فوج کے شہدا دفنائی نہیں گئے ہو ں انہی کی بدولت آج ملک میں امن و امان قائم ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاک فوج کے جوان یہاں کے سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں یہ معقول تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ قومی جذبے کے تحت اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیںقومی ادارے کو مخصوص نام سے جوڑنا افسوسناک ہے معزز رکن کے بڑے خود اس فوج میں رہے ہیں انہوںنے کہا کہ ہمارے سرحدوں پر دشمن بیٹھا ہے ایسے میں اسمبلی فلور پر ایسی باتیں کرنے سے انہیں فائدہ ہوگا یہ ملک اور سرزمین ہماری ہے اراکین اسمبلی ہم پر جتنی چاہے تنقید کریں مگر ہمارے قومی اداروں پر تنقید نہ کریں ،ملک او ر پاک فوج کے خلاف بات کرنے والوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ملک باسی ہونے کے ناطے پانچ سال تک اقتدار کے جھولے جھولتے رہے ہیںمری اور بگٹی بھی صوبے میں اقتدار میں رہے ہیں اور انکے فرزند آج بھی ہمارے ساتھ ہیں ،انہوں نے کہاکہ ملک کی بنیادیں کھوکھلانہ کی جائے یہ سرزمین اور فوج ہمارا ہے اور سبز پاسپورٹ ہماری پہچان ہے دشمن کے ہر سازش کا مقابلہ کرینگے۔ صوبائی وزیر واسا نور محمد دمڑنے کہاکہ معزز رکن کے الفاظ سے عوام کی دل آزاری ہوئی ہے حکومتی اراکین نے اسمبلی کے فلور پر ان کے الفاظ کی مذمت کی فوج ایک قومی ادارہ ہے جس کے خلاف سازشیںکرکے قوم اور افواج کو الگ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جس کی پر زور مذمت کرتے ہیں ملک کے 21کروڑ عوام پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے انہوں نے کہا کہ ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دینے والوں کو اقتدار چائیے آئندہ ہم کسی چوک، جلسے ، اسمبلی یا کسی بھی فورم پر پا ک فوج کے خلاف کہے جانے والے الفاظ کا بھر پور جواب دیں گے۔ صوبائی مشیر فشریز اکبر آسکانی نے کہاکہ پاک فوج کی قربانیوں کی بدولت آج ہم پرسکون زندگی گزار رہے ہیںاس قسم کے الفاظ کی شدید مذمت کرتے ہیں، وزیر اعلیٰ کے پارلیمانی سیکرٹری کیوڈی اے بشریٰ رند نے کہاکہ بلوچ ہزارہ پشتون سمیت تمام اقوام کی پاک فوج میں نمائندگی ہے ایسے میں اس قسم کی باتیں کرنا تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش ہے ،وزیر اعلیٰ کے پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور نیش کمارنے بھی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پاک فوج میں تمام اقوام اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں کسی کو فوج کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!