اسلام آباد : سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو معذور کا لفظ استعمال کرنے سے روکتے ہوئے حکم دیا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں سرکاری سطح پر معذور کا لفظ استعمال کرنا بند کر دیں، سرکاری خط و کتابت، سرکولرز اور نوٹی فکیشن میں معذور نہ لکھا جائے، معذور کی جگہ معذوری کا حامل شخص یا منفرد صلاحیتوں کا حامل شخص لکھا جائے۔جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔ جسٹس منصور علی شاہ کی طرف سے لکھے گئے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ معذور کوٹہ پر ملازمت کا حقدار قرار نہ دئیے جانے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معذور افراد سے متعلق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو معذور کا لفظ استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتیں سرکاری خط و کتابت,سرکولرز اور نوٹی فیکیشن میں معزور شخص کی جگہ معذوری کا حامل شخص یا منفرد صلاحیتوں کا حامل شخص لکھنے کی تاکید کی ہے۔عدالت عظمیٰ نے عبید اللہ کو ایک ماہ کے اندر میرٹ کے مطابق معذور کوٹہ پر بھرتی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ معذور لفظ استعمال کرنے سے امیدوارکی عزت نفس مجروح ہوتی ہے،آئین پاکستان معذور افراد کو عام افراد کے مساوی حقوق دیتا ہے،ڈس ایبل پرسن آرڈیننس کے مطابق کسی شعبے میں ٹوٹل ملازمتوں میں 2 فیصد کوٹہ معذوروں کیلئے مختص ہے،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں 3.3 ملین سے 27 ملین لوگ معذور ہیں،معاشرے میں معذور افراد کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،عام تاثر ہے کہ معذور افراد کوئی کام درست انداز میں نہیں کرسکتے،معذور افراد کو ملازمت سرانجام دینے کیلئے خصوصی انتظامات کیے جائیں،معذور افراد کی سہولت کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔عبید اللہ نے معذور کوٹہ پر ملتان میں سینئر ایلیمنٹری سکول ایجوکیٹر کیلئے اپلائی کیا تھا،81 سیٹوں میں سے صرف عاصمہ قاسم کو معذور کوٹہ پر ملازمت دی گئی تھی ،قانون کے مطابق 81 میں سے 5 سیٹیں معذور کوٹہ کی بنتی تھیں۔عبید اللہ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا
