بیرسٹر عقیل نے نیب مقدمات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے نے بنیادی آئینی اصول کو واضح انداز میں بیان کیا ہے،
بیرسٹر عقیل کا کہناتھا کہ فیصلے نے واضح کیا عدالتی فورم کا تعین فریقین کی خواہش، سیاسی مفاد کی بنیادپر نہیں، عدالتی فورم کا تعین صرف آئین اور قانون کے مطابق ہوتاہے، نیب مقدمات میں دوسری اپیل کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیا جا چکا، ضمانت سمیت تمام ضمنی اور متعلقہ کارروائیاں بھی آئینی عدالت کے دائرہ اختیارمیں آئیں گی، یہ فیصلہ کسی شخصیت،سیاسی جماعت یا ادارے کی جیت یا ہار کا نہیں، یہ فیصلہ عدالتی نظام کے استحکام اور آئین کی بالادستی کامظہرہے، مضبوط عدلیہ وہ نہیں جو ہر مقدمہ اپنے پاس رکھے، مضبوط عدلیہ وہ ہے جو آئین کی مقرر کردہ حدود کا مکمل احترام کرے، سپریم کورٹ نے آئین اور قانون کے مطابق دائرہ اختیارکی درست تشریح کی۔



