اسلام آباد :ملک میں کورونا سے مزید 23 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 1009 ہو گئی ، نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 47176 تک پہنچ گئی ہے،13101 مریض صحتیاب ہوگئے ۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق ملک بھر سے کورونا کے مزید 1400 کیسز اور 23 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں،سندھ سے 17 ہلاکتیں اور 1017 کیسز ، خیبر پختونخوا سے 261 کیسز 6 ہلاکتیں، اسلام آباد سے 104 کیسز اور آزاد کشمیر سے 18 کیسز سامنے آئے ہیں۔وفاقی دارالحکومت سے کورونا وائرس کے مزید 104 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں۔سرکاری پورٹل کے مطابق نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 1138ہو گئی ہے جب کہ دارالحکومت میں وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 9 ہے۔اس کے علاوہ اسلام آباد میں اب تک کورونا وائرس سے 151 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔آزاد کشمیر سے کورنا کے مزید 18 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں۔پورٹل کے مطابق علاقے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 133 ہوگئی ہے ، علاقے میں اب تک وائرس سے ایک ہلاکت ہوئی ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے اب تک 77 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔سندھ میں کورونا وائرس سے 17 افراد جاں بحق اور 1017 کیسز سامنے آئے ہیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ کورونا وائرس کے باعث 24 گھنٹوں میں مزید 17 افراد انتقال کر گئے ہیں جس کے بعد صوبے میں کورونا کے سبب انتقال کرنے والوں کی تعداد 316 ہو گئی ہے۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں اس وقت 127 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جس میں سے 32 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔انھوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 6164 نئے ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 1017 نئے کیسز سامنے آئے۔وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 18 ہزار 964 ہو گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ904 مزید مریض صحت یاب ہوکر اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں جس کے بعد صوبے میں صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 5 ہزار 645 ہو گئی ہے۔خیبر پختونخوا میں بدھ کو کورونا وائرس سے مزید 6 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 351 ہوگئی ہے۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں کورونا کے مزید 261 کیسز بھی سامنے آئے جس کے بعد متاثرہ افراد کی کل تعداد 6815 ہوچکی ہے۔کے پی میں 2130 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
