طیارہ حادثہ، پی آئی اے کا فلائٹ آپریشنز کنٹرول سسٹم بدلنے کا فیصلہ

طیارہ حادثہ، پی آئی اے کا فلائٹ آپریشنز کنٹرول سسٹم بدلنے کا فیصلہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کراچی :عید سے دو دن قبل کراچی میں ہونے والے طیارے حادثے کے بعد پی آئی اے نے فلائٹ آپریشنز کنٹرول سسٹم بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جدید سسٹم سے طیاروں کو حادثات سے بچانے میں مدد ملے گی جبکہ فلائٹ آپریشنز کنٹرول سسٹم ترکی سے لیا جائے گا۔ تا ہم اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ جدید سسٹم سے پی آئی اے کی سروس ڈلیوری عالمی معیار کی ہو جائے گی اور آنے والے وقت میں سفر کرنے میں آسانی کے ساتھ ساتھ محفوظ سفر کیا جاسکے گا۔خیال رہے کہ پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے بیشتر مرتبہ حادثات کا شکار ہو چکی ہے جس کے بعد پاکستانی عوام کی جانب سے مختلف مقامات پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح کا ایک اور حادثہ عید سے دو دن قبل کراچی میں پیش آیا تھا جہاں پی آئی اے کا لاہور سے کراچی جانے والا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔واضح رہے کراچی ایئرپورٹ کے قریب عید سے 2 دن قبل دوپہر سوا دو بجے کے قریب پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303 گر کر تباہ ہوگئی تھی۔ایئربس میں 107 افراد سوار تھے جن میں 99 مسافر اور عملے کے 8 افراد شامل تھے۔ ایئربس 320 ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ایئرپورٹ سے کراچی کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچی تھی کہ لینڈنگ سے قبل طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کورنگی نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ماڈل کالونی جناح باغ میں کسی رہائشی کا جانی نقصان نہیں ہوا۔بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طیارہ ماڈل کالونی جناح گارڈن کے بلاک اے اور ا?رمیں گرا جس سے 19گھروں کو نقصان پہنچا اور ان میں 2 گھر مکمل طور پر جل گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد شہید ہونے والے افراد کے گھروں میں عید کے دنوں میں سوگ منایا جا رہا تھا جس میں پورا پاکستان ان کے ساتھ شریک تھا۔ جہاں پاکستانیوں کی جانب سے شہدائ کے لواحقین کے ساتھ افسوس کا اظہار کیا جا رہا تھا، وہاں ہی پی آئی اے کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا تھا۔ اسی تنقید کے بعد اب پی آئی اے نے فلائٹ آپریشنز کنٹرول سسٹم بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جدید سسٹم سے طیاروں کو حادثات سے بچانے میں مدد ملے گی جبکہ فلائٹ آپریشنز کنٹرول سسٹم ترکی سے لیا جائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!