اے آئی سے بنائی گئی مصنوعی تصویر کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے؟ ماہرین نے اہم نشانیاں بتا دیں

اے آئی سے بنائی گئی مصنوعی تصویر کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے؟ ماہرین نے اہم نشانیاں بتا دیں

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی تیزی سے ترقی نے جعلی تصاویر کو اس قدر حقیقت سے قریب تر بنا دیا ہے کہ عام افراد کے لیے اصل اور مصنوعی تصویر میں فرق کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر لوگوں کو چند مخصوص خصوصیات پر توجہ دینا سکھائی جائے تو وہ نسبتاً کم وقت میں جعلی تصاویر کی شناخت کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر بہتر بنا سکتے ہیں۔
اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایبرڈین کی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کلیئر سدرلینڈ اور آسٹریلیا کی آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی محقق پروفیسر ایمی ڈاول نے برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے سائنس دانوں کے ساتھ مل کر اس حوالے سے تحقیق کی۔ تحقیق کے دوران شرکا کو 6 بنیادی خصوصیات پر توجہ دینا سکھایا گیا۔
غیر معمولی یکسانیت: انسانی چہروں میں معمولی خامیاں قدرتی ہوتی ہیں، جیسے ایک پلک کا ہلکا سا جھکاؤ یا مسکراہٹ کا معمولی ٹیڑھا ہونا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کوئی چہرہ حد سے زیادہ مکمل اور بے عیب دکھائی دے تو اس کے مصنوعی ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ چہرے کے تناسب: اے آئی عام طور پر ایسے چہرے بناتی ہے جن کے اعضا متوازن اور خوبصورت دکھائی دیتے ہیں جبکہ حقیقی انسانوں میں ناک، کان یا دیگر اعضا میں قدرتی فرق پایا جاتا ہے۔ غیر معمولی خوبصورتی: تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت اکثر ایسے چہرے تخلیق کرتی ہے جو غیر معمولی حد تک خوبصورت اور دلکش ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر سدرلینڈ کے مطابق اے آئی خوبصورت چہروں کو زیادہ ترجیح دیتی ہے منفرد خصوصیات کا فقدان: حقیقی انسانوں کے چہروں میں کوئی نہ کوئی ایسی خاص بات ہوتی ہے جو انہیں دوسروں سے الگ بناتی ہے جبکہ اے آئی سے بنائے گئے چہرے اکثر ایک جیسے اور عام نوعیت کے محسوس ہوتے ہیں۔
جذباتی تاثرات کی کمی: تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مصنوعی تصاویر میں جذبات نسبتاً کم محسوس ہوتے ہیں۔ چہرے پر خوشی، غصہ یا اداسی جیسے تاثرات حقیقی انسانوں کی نسبت کم نمایاں ہوتے ہیں۔ یاد رہ جانے والی شخصیت کا فقدان: ماہرین کے مطابق اے آئی کے بنائے گئے چہرے اکثر ایسے ہوتے ہیں جو دیکھنے کے کچھ دیر بعد ذہن سے نکل جاتے ہیں جبکہ حقیقی انسانوں کے چہرے نسبتاً زیادہ دیر تک یاد رہتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک علامت 100 فیصد ثبوت نہیں ہوتی۔ جعلی تصاویر کی شناخت دراصل مختلف خصوصیات کو مجموعی طور پر دیکھنے اور ایک عمومی تاثر قائم کرنے سے ممکن ہوتی ہے۔ تحقیق کے دوران شرکا کو پہلے مختلف تصاویر دکھا کر ان کا امتحان لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں اصل اور جعلی تصاویر میں فرق کرنے کی تربیت دی گئی اور دوبارہ ٹیسٹ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ شرکا کی درست شناخت کرنے کی صلاحیت اوسطاً 40 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 80 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ چند افراد نے تقریباً 100 فیصد درست نتائج حاصل کیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال انسان مناسب تربیت کے ذریعے اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کو بہتر انداز میں پہچان سکتے ہیں لیکن مصنوعی ذہانت بھی مسلسل سیکھ رہی ہے اس لیے مستقبل میں یہ چیلنج مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!