سوراب ‘ مغربی روٹ مکمل مگر دکان مالکان آج بھی معاوضوں کے منتظر

سوراب ‘ مغربی روٹ مکمل مگر دکان مالکان آج بھی معاوضوں کے منتظر

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

سوراب :ایشیاءکی سب سے بڑی سی پیک روٹ یعنی مغربی روٹ کامیابی کے ساتھ چار سال پہلے مکمل تو ہوگئی لیکن گدر بازار کے متاثرہ دوکان مالکان آج بھی سی پیک روٹ کی زد میں آ نے والے دوکانوں کے معاوضوں کی منتظر میں ہیں،تفصیلات کے مطابق آج سے چار سال پہلے سی پیک یعنی چائنہ پاکستان اکنامک کوری ڈود کی زد میں گدر بازار کے بہت سے دوکانیں آگئی تھی جنھیں روڈ کے لیے مسمار کردیا گیا تھا،روٹ کی کام کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا پھر بھی این ایچ اے نے گدر بازار کے متاثرہ دوکان کے معاوضے ادا نہیں کیے گئے ہیں،جس سے کئی لوگ اپنی روز روٹی سے محروم ہو کر دہاڑی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں،متاثرہ دوکان مالکان نے آن لائن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بے حد خوشی ہیں کہ سی پیک جیسے اہم روٹ ہمارے علاقے گدر سے ہو کر گوادر کے لئے جاتا ہے وفاقی و صوبائی حکومت اور این ایچ اے کو چاہیے کہ سی پیک روٹ کی زد میں آنے والے ہمارے دوکانوں کے معاوضوں کو ہمیں جلد از جلد ادا کریں تاکہ ہم دوبارہ سے اپنی کاروبار شروع کر سکیں کیونکہ دوکانوں کی مسمار کی وجہ سے گدر بازار میں کاروبار رکھ گیا ہیں ہمیں حاجت یعنی ہمارے پاس پیسے نہیں کہ اپنے کاروبار کے مزید جاری رکھنے کے لئے دوسرا اسٹاپ لیں،دوکانیں کم ہونے کی وجہ سے بازار میں فی دوکان کے کریہ چھ ہزار روپیہ تک پہنچ چکی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!