لاک ڈاﺅن یا نرمی

لاک ڈاﺅن یا نرمی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا جس میں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی صوبائی اور وزارت صحت کے حکام شریک ہوں گے اجلاس میں لاک ڈاون میں مزید سختی یا نرمی سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے اور کورونا وائرس کی وبائی صورتحال، مرض سے بچاو کی حکمت عملی پر بات ہوگی اس موقع پر کورونا کے مریضوں کے علاج اور طبی سازو سامان کی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی اس سے قبل 7مئی کو ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں 9 مئی سے لاک ڈاون میں مزید نرمی کا اعلان کیا گیا تھا اور وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے 9 مئی سے مرحلہ وار لاک ڈاون کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم نے جو فیصلہ کیا وہ تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کیا ہے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو ذمہ داری لینا پڑے گی، اگر اس مشکل مرحلے سے نکلنا ہے تو حکومت ڈنڈے کے زور سے نہیں بولے گی، حکومت اور پولیس کیا کیا کام کرسکتی ہے؟ کیا ہم پکڑ کر لوگوں کو جیلوں میں ڈالیں اور وہاں ٹیسٹ کریں، یہ کوئی بھی حکومت نہیں کرسکتی۔اس کے بعد عید کے موقع پر سپریم کورٹ نے بھی تمام کاروبار اور شاپنگ مالز پورے ہفتے کھولنے کا حکم جاری کردیا تھا جس کے بعد تمام کاروبار اور شاپنگ مالز شام 5 بجے تک کھولنے کا اعلان کردیا گیا تھاچنانچے ملک بھر میں مشروط لاک ڈاون کا آج آخری دن ہے اور اب کل وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔دوسری جانب یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ سکولوں کو 15اگست تک بند رکھنے کا فیصلہ کئے جانے کا امکان ہے ایک جانب اگر عوام کو خصوصاً بچوں کو کورونا سے مرض سے بچانے کیلئے سکول بند کئے گئے ہیں تو دوسری جانب بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہو رہے ہے اس سے بڑھ کر پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانے والے لاکھ اساتذہ کا مستقبل بھی داﺅ پر لگ گیا ہے کیونکہ سکول فیسیں نہ ملنے کی وجہ سے مالکان اساتذہ کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں لہذا حکومت اس مسئلے کے حل کیلئے بھی اقدامات اٹھائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!