کشمور ہو یا کشمیر، عوام کے حقِ پر کوئی سیاسی ڈاکا قبول نہیں، بلاول بھٹو کا نواز شریف کے بیان پر ردعمل

کشمور ہو یا کشمیر، عوام کے حقِ پر کوئی سیاسی ڈاکا قبول نہیں، بلاول بھٹو کا نواز شریف کے بیان پر ردعمل

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘کشمور ہو یا کشمیر’، عوام کے حقِ حاکمیت اور حقِ ملکیت پر کسی بھی قسم کا سیاسی قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہر خطے کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
بلاول بھٹو نے اپنے ویڈیو پیغام میں مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر، کشمور، میرپور اور میرپور خاص صرف ناموں میں ہی نہیں بلکہ اپنے سیاسی مزاج میں بھی مماثلت رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی دوسرے شہر یا صوبے کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی علاقے کے عوام کے سیاسی فیصلوں یا حقِ حکمرانی پر اثرانداز ہو۔انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ حالیہ سیاسی بیانات سے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسے بعض علاقوں کے فیصلے کہیں اور سے طے ہوں، تاہم عوام ایسی سوچ کو مسترد کر دیں گے۔
پیپلز پارٹی نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں کشمیر اور کشمور کے عوام نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ کے ذریعے مسترد کیا تھا۔ ان کے بقول، میرپور خاص کی طرح میرپور کے عوام بھی آئندہ انتخابات میں ‘تیر’ کے نشان پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر اور کشمور کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں اور وہ اپنا سیاسی اختیار کسی دوسرے شہر یا صوبے کے سپرد نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے انتخابات میں بھی عوام اپنی رائے آزادانہ طور پر دیں گے اور یہی جمہوریت کا بنیادی اصول ہے۔
بلاول بھٹو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آزاد کشمیر میں پیر سے مرحلہ وار الیکشن کا انعقاد شروع ہونے جا رہا ہے، اس سے قبل میرپور میں ایک جلسہ کے دوران میاں نواز شریف نے نام لیے بغیر پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!