بھارت اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے پانچ کلیدی مقامات پر دونوں ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ ان علاقوں میں گزشتہ کئی ہفتوں سے حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں اسی لیے بھارت نے چین کی مقامی فوجی قیادت سے بات چيت کی پیشکش کی تھی۔ حکام کے مطابق آج ہفتہ چھ جون کی صبح سے بات چیت کا آغاز ہوا ہے۔ چونکہ بات چیت کی پیشکش بھارت نے کی تھی اس لیے گفت و شنید بھارتی سرحدی پوائنٹ چوشولو مولڈو کی ایک ہَٹ میں ہو رہی ہیں۔ بھارت کی جانب سے اس وفد کی قیادت 14 کور کے لیفٹنٹ جنرل ہریندر سنگھ کر رہے ہیں جبکہ چینی وفد کے سربراہ تبت کے ضلعی سطح کے فوجی کمانڈر ہیں۔ اس سے قبل بھی دونوں جانب کے فوجیوں کے درمیان چیت ہوئی ہے تاہم اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بات چيت میں بھارتی وفد مشرقی لداخ کے تمام علاقوں میں مئی سے پہلے کی پوزیشن کو بحال کرنے پر زور دےگا اور جن علاقوں میں چینی فوج اس وقت موجود ہے وہاں سے اس کے واپس جانے کو کہےگا۔ بھارت، سرحد پر چینی فوجیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کا بھی مخالف ہے اور چاہتا ہے کہ فوجوں کی تعداد میں کمی کی جائے۔ اس کا تیسرا مطالبہ یہ کہ چین سرحد پر بھارت کی جانب سے کھڑے کیے جانے والے انفراسٹرکچر میں رخنہ اندازی نہ کرے اور تعمیراتی کاموں کو چلنے دے۔
