ٹائیگر فورس بمقالہ ٹڈی دل

ٹائیگر فورس بمقالہ ٹڈی دل

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی کووِڈ 19 ریلیف ٹائیگر فورس کو ٹڈی دل اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث شجرکاری مہم میں شامل ہونے کی ذمہ داری دے دی۔ٹائیگر فورس کے حوالے سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں صرف 2 ملک تھے جنہوں نے اس بات کا ادراک کیا کہ کورونا کے باعث پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں رضاکاروں کی ضرورت ہے۔ہمیں ایسے رضاکاروں کی ضرورت تھی جو عوام میں جا کر کورونا وائرس سے بچاو کے طریقوں کے حوالے سے آگاہی دیں وزیراعظم نے یہ کہا کہ ہم واحد مسلمان ملک تھے جس نے یہ فیصلہ کیا کہ رمضان المبارک کے دوران مساجد کھلی رکھی جائیں گی اور اس سلسلے میں ایس او پیز پر عملدرآمد کروایا جائے گا اپنے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ مخالفین نے بہت شور مچایا کہ مساجد بند کی جائیں کیونکہ وبا پوری دنیا میں پھیل گئی ہے لیکن ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ مساجد سے کورونا کا پھیلاو نہیں ہوا اور آج دنیا کے دیگر ممالک بھی ایس او پیز پر عمل کر کے مساجد کھول رہے ہیں ہم اب بھی عوام کو احتیاط کروائیں تو ہم اس مشکل وقت سے نہیں گزریں گے جس سے دنیا کے دیگر ممالک گزرے برازیل اور امریکا میں شرح اموات بہت بلند ہے لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان میں حالت خاصی بہتر ہے لیکن پھر بھی افسوس کی بات ہے کہ اتنی اموات ہوئیں ٹائیگر فورس کے رضاکاروں کو عوام میں شعور پیدا کرنا ہے، اگر ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کورونا کے کیسز میں کمی آسکتی ہے یہ وائرس ہے اور اسے پھیلنا ہے ہم لوگوں کو کمرے میں بند نہیں کرسکتے کیوں کہ صرف اس صورت میں وائرس کا پھیلاو شاید رک جائے لیکن ہمارے جیسے ملک لاک ڈاون کے متحمل نہیں ہوسکتے بھارت میں شدید غربت کے باجود سخت لاک ڈاون لگایا گیا جس سے تباہی مچ گئی اور وہاں لوگ مر رہے ہیںہم نے احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 60 لاکھ خاندانوں کو ریلیف پہنچایا ہے، اگر ہم یہ اقدام نہ اٹھاتے تو پاکستان میں برا حال ہوجاتا ہم لاک ڈاون کی جانب واپس نہیں جاسکتے، یہ ملک مزید لاک ڈاون برداشت نہیں کرسکتا ہمیں معلوم تھا کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے پر دباو بڑھے گا اور پوری دنیا میں طبی عملے اس دباو کا شکار ہیں لیکن اگر ایس او پیز پر عمل کروایا گیا تو اس دباو میں کمی آسکتی ہے کہ ہم نے اسمارٹ لاک ڈاون کیا اس کے باوجود ٹیکس ریونیو میں 8 کھرب روپے کی کمی آئی، اب تک ہم گزشتہ حکومتوں کے لیے گئے قرضوں پر 5 ہزار ارب روپے سود کی ادائیگی کرچکے ہیں اس لیے ریونیو میں یہ کمی ہمارے لیے مشکلات کا سبب بنے گی مالی سال کے بجٹ میں ہمیں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا اور اخراجات کم کرتے ہوئے آمدن بڑھانے کے طریقوں پر توجہ دینی ہوگی مجھے مزید 2 شعبوں میں ٹائیگر فورس کی ضرورت ہے جس میں ایک ٹڈی دل ہے جو 30 سال بعد پاکستان میں اس طرح حملہ آور ہوئی ہے ہم یہاں کہنا چاہیں گے کہ موجودہ صورتحال میں ٹڈی دل نے بلوچستان کے تمام اضلاع میں تباہی مچا دی ہے لہذا حکومت فوری طور پر ہر ذرائع کو استعمال میں لاتے ہوئے ٹڈی دل سپرے مہم شروع کی جائے ورنہ بلوچستان میں تو خوراک کی شدید قلت پیدا ہو جائیگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!