اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ (ن)کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے حکومت پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا ہے کہحکومت نے معاشی طور پر شکست تسلیم کر لی ہے اگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیتے تو کونسا آسمان گر جاتا؟ آئی ایم ایف سے کرائے پرلائی گئی ٹیم نے ”آلہ قتل“ حماد اظہر کے ہاتھ میںتھما دیا ہے، ہمارے دور میں نڈسٹریل گروتھ9.4تھی اب منفی ہو چکی ہے ،ٹیکس وصولی پرانے پاکستان میں 3042 بلین تھی اور اب کئی درجے نیچے گر چکی ہے اور سسکیاں لے رہی ہے ،ملک کا اندرونی قرضہ ری شیڈول کیا گیا ، ان قرضوں پر انٹرسٹ پر 15 سے20 ارب روپے کا نقصان اٹھایا گیا، ملکی معیشت ڈیڑھ سال پہلے ہی تباہ ہو چکی تھی کورونا بعد میں آیا ،2018ءکے الیکشن میں امپائرکی انگلی کا اشارہ کیا گیا اب وہ امپائر بھی حکومت کیساتھ نہیں ہے۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کرونا کے باعث ڈاکٹرز،پیرامیڈیکس،پولیس اور سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے فرنٹ لائن پر آکر اس مہلک وائرس کا مقابلہ کیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے نواز شریف ٹیکس ریونیو جہاں چھوڑ کر گئے تھے عمران خان نے ایک پیسہ بھی اگے نہیں بڑھایا۔2018کے الیکشن میں مرضی کے ایمپائر کھڑے کرکے پسندیدہ کھلاڑی بھی ساتھ ملائے گئے اور وکٹیں لیں اور جس ایمپائر کی انگلی کا اشارہ کیا تھا آج وہ ایمپائر بھی انکے ساتھ نہیں ہیں،ہماری معیشت حکومت کے پہلے ڈیڑھ سال میں تباہ ہو چکی تھی جبکہ کرونا تو بعد میں آیا۔فنانس ٹیم کا ماضی دیکھ لیں کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں او رمجھے اندازہ ہے کہ جون کے مزید بڑھ جائے گا، یہ آئی ایم ایف کی ٹیم ہے اور انہوں نے آلہ قتل حماد اظہر کے ہاتھ میں پکڑا دیا ہے اور یہاں ایسے لوگ طاقتور ہیں جن کو ایک ووٹ بھی نہیں مل سکتااوریہ بات حقیقت ہے کہ حکومت پسپائی اختیار کر چکی ہے اور بجٹ کے حوالہ سے پرانے اور نئے پاکستان کا موازنہ پیش کروں گا۔انڈسٹریل گروتھ سابق دور میں 9.4 تھی جبکہ اب منفی میں چلی گئی ٹیکس کلیکشن پرانے پاکستان میں 3042بلین تھی جبکہ اب کئی درجے کم ہے اور یہ دو سال سے سسکیاں لے رہے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ پی ایس ڈی پی روزگار فراہم کرتا ہے۔بہت شور تھا وعدوں اور نعروں کا ۔آج بھی بجٹ میں کہا گیا کہ کرپشن برداشت نہیں کر سکتے۔عمران خان نے کہا کہ قرضہ نہیں لوںگا بلکہ خود کشی کر لوں اور افسوس کہ خودکشی نہ سہی کوشش تو کر لیتے۔انہوں نے کہا تھا کہ ایمنسٹی سکیم چوروں کے لیے ہوتی ہے ۔ماضی بعید اور گزشتہ سال خود حکمرانوں نے اس سکیم سے فائدہ لیا ۔وزیراعظم نے ایک وعدہ کیا تھاکہ سانحہ ساہیوال میں انصاف دلاوں گا، آج سب ملزمان رہا ہو چکے ہیں۔ہمارا اندرونی قرضہ ری شیڈول کیا گیا اور ان قرضوں پر انٹرسٹ پر 15 سے بیس ارب روپے کا نقصان اٹھایا گیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کے نئے پاکستان کا ٹیکس ریونیو 2 سال بعد بھی اتنا ہے جتنا نواز شریف چھوڑ گیا تھا،ہماری حکومت نے ٹیکس ریونیو ڈبل کیا تھا،یہ عارضی بجٹ ہے منی بجٹ آئے گااور نئے ٹیکس لگیں گے،نواز شریف کی حکومت نے ٹیکس ریونیو ڈبل کیا ، پی ایس ڈی پی750بلین چھوڑا تھا اور آج پی ایس ڈی پی623 بلین ہے۔انہوں نے کہا کہ بے روزگای بڑھ رہی ہے،پی ایس ڈی پی سے معاشی سرگرمیاں بڑھتی ہیں ،حکومت معاشی محاذ پر پسپائی اختیار کر رہی ہے۔حکومت نے معاشی طور پر شکست تسلیم کر لی ہے اگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیتے تو کونسا آسمان گر جاتا؟میں آپ کو نشاندہی کر سکتا ہوں کہ کہاں سے ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ٹیکس لے کر ری فنڈ دینے کا رواج ختم کریں،حفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک کرائے پر لئے گئے لوگ ہیں انھیں کون لے کر آیا ،(ن)لیگ اور پیپلز پارٹی کے احتساب کی لمبی لسٹ ہے ۔رانا تنویر، ایاز صادق اور میرے لئے گرفتار نہ ہوناطعنہ بن گیاہے ،بی آر ٹی اور فارن فنڈنگ کیس کوئی جہاد تھا،آپ نے لوگوں کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے ہیں یہ سرکار بوجھ بن چکی ہے یہ قائم نہیں رہ سکتی،مارچ میں حالات ان کے کنٹرول سے باہر ہو چکے تھے ، حکمران اب کرونا کے پیچھے چھپ رہے ہیں ۔انھوں نے اپنی ڈکیتی پر حکم امتناعی لے رکھا ہے ۔انہوں نے کہاکہ نواز شریف الزامات پرنااہل ہو سکتے ہیں تو ہم ان حکمرانوں کا بھی پیچھا کریں گے ۔یہ ڈبل شاہ ہیں، خدا کی قسم ہم ان کا پیچھا کریں گے ۔خواجہ آصف نے استفسار کیا کہ کیا بلین ٹری پر آپ ذمہ داری لیں گے؟ جس پر سپیکر نے کہا کہ الکل میں اس مہم کا حصہ تھا،مجھے 10یا 20 ملین نہیں 1ارب درخت دکھائیں۔خواجہ آصف نے کہاکہ انھوں نے چینی سکینڈل میں وعدہ معاف گواہ کو فرار کروا دیا ہے۔ملک میں کرونا کے علاو¿ہ کیاسستاہ حکمران جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ کہتے تھے مہنگائی بڑھے تو وزیر اعظم چور ہوتا ہے اجازت دیں ہم ایوان کی سکرینز پر ان کے بیان چکا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایکسپو سنٹر میں 90 کروڑ کا قرنطینہ سنٹر بنایا گیا جس کو بند کردیا گیاڈیڑھ مہینے میں 90 کروڑ کھا گئے، سب مال بنارہے ہیںاس 90 کروڑ سے کئی غریب گھروں میں راشن پہنچایا جاسکتا تھااس مٹی کی خیر مانگیں جس کی بدولت ہمارا اختیار ہے آج بنگلہ دیش معیشت میں ہر لحاظ سے ہم سے آگے ہے،ہمارے ملک میں نہ تعلیم ہے اور نہ صحت اس بجٹ میں تعلیم اور صحت کے لیے کیا رکھا گیا ہےسیالکوٹ کے قرنطینہ سنٹر میں عید پر مریضوں کی چھٹی دے دی گئی کہ جاو¿ عید کر آو¿،وفاقی اور پنجاب حکومت کے ایک سے ایک بڑھ کے کارنامہ ہیں،پیکٹ کے اندر 2 نمبر مال نکلا ہے جس کا دو سال میں سب کو پتہ چل گیاپیکجنگ بہت اچھی تھی ،دو سال میں پتہ چلا کہ مال نقلی تھاامپریل کالج والے کہتے ہیں کہ اگست میں اسی ہزار لوگ مریں گے یہ شاخسانہ پچھلے تین ماہ کی پالیسی کا ہے ،پوری قوم کو ایک وبا کے حوالے کردیا ہے ،کہا جارہا ہے کہ ملک کی ایک فیصد آبادی کورونا کا شکار ہوگی، ہم ماسک پہننا توہین اور کورونا کو زکام کہتے رہے ،پچھلے تین ماہ کے بیانات کسی ماہر نفسیات کو دکھائیں اور پوچھیں کہ یہ بندہ کون ہےاس وقت بھی جتنے وسائل ہیں، اس وبا کے خلاف جھونک دیں ،اس ملک کے بڑے بڑے صنعتکاروں نے اپنے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دیںیہ وہ صنعت کار ہیں جنہوں نے ٹیکس چوری سے دولت بنائی کورونا سے اموات بارے جو فگر سامنے آرہی ہیں، اللہ کرے غلط ہوکہا جا رہا ہے کہ 10 اگست کو پاکستان میں 80 ہزار بندہ مرے گا،پوری قوم کو وبا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے،تین مہینے پہلے ہم کورونا کو کنٹرول کرسکتے تھے لیکن نہیں کیا،ہم ماسک پہننا اپنی توہین سمجھتے تھے وزیراعظم کا تعارف کیے بغیر کسی ماہر نفسیات کو دکھائیں کہ وہ انکی ذہنی حالت بتا دے گا ،ملک کے بڑے بڑے صنعتکاروں نے اپنے ملازمین کو تنخواہ نہیں دی جہانگیر ترین ڈبل مزے کررہے ہیں، نہ پھڑے جاو¿ تے کورونا توں وی بچو،جہانگیر ترین اس حکومت کا آرکیٹکٹ ہے، اسکو امپائر کی انگلی کا پتہ ہے کہاں ہے، جنوبی پنجاب صوبہ، کہاں ہیں پچاس لاکھ گھر،کوئی ایک اینٹ انھوں نے لگائی ہو تو بتائیں، نواز شریف کے پرانے پاکستان میں ترقی ہوئی دہشتگردی ختم ہوئی نواز کی یاد آج لوگوں کو آرہی ہے، وہ ضرور واپس آئے گا، اسکو کوئی نہیں روک سکتا،موجودہ حکمران فراڈیئے ہیں جس پر سپیکر نے کہا کہ فراڈ یا لفظ حذف کرتا ہوں ۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اچھا میں کہہ دیتا ہوں موجودہ حکمران جھوٹے ہیں ،اپنے وعدوں سے پھر جاتے ہیں،اقتدار کے لئے باپ بیٹوں اور بیٹے باپ کو قتل کرتے رہے ہیں ،یہاں یہ بھی صورتحال بن چکی ہے ،یہاں ادھر ادھر دیکھ کر کہتے ہیں یہ گرے تو ہم تیار ہیں ،کچھ انٹرویو بھی دیتے ہیں،دو سال میں پتہ چل گیا صرف پیکیجنگ ہی تھی ،اندر کچھ نہیں تھا بتایا جائے بجٹ میں تعلیم صحت کے لئے رکھا کیاگیا ہے ،سیالکوٹ میں سٹیڈیم میں بنا قرنطینہ سنٹر بند کردیا گیا،مریضوں کو کہا گیا جاو عید گھر کر آو ،عوام کو وبا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ،ڈاکٹرز کو وبا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ،اسد عمر دل پر ہاتھ رکھ بتائیں کہ تین ماہ قبل ہم کورونا کو کنٹرول کرسکتے تھے جو جو بیان بدل بدل کر دیئے گئے کسی ماہر نفسیات کو دکھائیں یہ بندہ کون ہے جو ایسے بیانات دے رہا ہے آپ مافیاز کو فائدے نہ دیں،عام چھوٹے تاجروں کو پیکیج دیں، دوسرے ماہ بڑے تاجروں نے مزدوروں کو تنخواہ نہیں دی،آج بھوک اور موت کرونا سے سستی ہیں ،ہمیں نوازشریف کا پرانا پاکستان ہی لوٹا دو ملک کو سڑکیں روشنیاں دینے والے نوازشریف واپس ضرور آئیں گے ،یہ عارضی بجٹ ہے منی بجٹ ضرور آئے گا ۔ خواجہ آصف کی تقریر کے دوران اذان عصر ہوئی تو انہوں نے کہا دیکھا میری بات کی گواہی آگئی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ نواز شریف کی حکمرانی کیوں ختم ہوئی، مجھے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں،میں نواز شریف کو 1964 سے جانتا ہوں، مجھے ان پر اعتماد ہے ،نواز شریف نے گزشتہ دور میں ملک کی بے پناہ خدمت کی، شیخ رشید 2002 کی اسمبلی میں قسمیں کھاتے تھے کہ نواز شریف واپس نہیں آئے گا لیکن وہ آیا،کیا یہ حکومت تباہی و بربادی کے لیے آئی ہے، انکو خود کچھ سمجھ نہیں آرہی ،انھوں نے خواب کیا دکھائے ہمیں اور تعبیر کیا دی ،یہ بجٹ تباہی ہے، جن کا اس مٹی سے کوئی لینا دینا نہیں انکے ہاتھ میںمعیشت دیدی گئی۔حفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک سے پرفارمنس بانڈ بھروائیں،مشیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بنک کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے ،عمران خان کا صرف یہ وعدہ سچا تھا کہ میں رلاو¿ں گا، آج ساری قوم رو رہی ہے ،سرکاری ملازمین کی بددعائیں نہ لیں انکی تنخواہیں بڑھائیں،کورونا میں کام کرنے والے ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس اور سکیورٹی فورسز کا خیال کریں
