کوئٹہ:سابق وزیراعلیٰ بلوچستان و چیف آف ساراوان نواب محمداسلم خان رئیسانی نے صوبے کی بلوچ پشتون سیاسی وقبائلی قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہوجائیں اور صوبے کے ساتھ جاری ناروا مظالم کیخلاف آواز بلندکریں 72سال گزر چکے بلوچ پشتون ،سرائیکی اور سندھی آج بھی تقسیم کے عمل سے گزررہے ہیں صوبے میں چادر وچاردیواری کی پامالی لوگوں کااغواءاور زمینوں پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے ان چغل خوروں اور سرکاری سرپرستی میں بد معاشی کرنے والوں کو محاسبہ کرنا ضروری ہے اور اس سلسلے میں سب کو اتحاد واتفاق سے ان کا مقابلہ کرنا پڑے گا ان خیالات کااظہارانہوں نے برمش یکجہتی کمیٹی شال کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر برمش یکجہتی کمیٹی شال کے زیر اہتمام سانحہ ڈھنک اور دیگر سانحات کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرے کے شرکاءسے سابق وزیراعلیٰ بلوچستا ن نواب اسلم رئیسانی ،بلوچ بزرگ رہنماءاورنیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماءنوابزادہ حاجی میرلشکری رئیسانی ،میر محی الدین لہڑی،جاوید بلوچ،نیشنل پارٹی کے نیاز بلوچ،ملک نصیر شاہوانی،علی احمد لانگو،پشتون تحفظ موومنٹ کے سید زبیر شاہ آغا نے اظہار یکجہتی کی ۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ یہ چغل خور اور سرکاری سرپرستی میں بد معاشی کرنے والوں کا محاسبہ ضروری ہے افسوس کی بات ہے کہ 72سال گزرچکے ہیں اس کے باوجود پشتون بلوچ ،سرائیکی اور سندھی تقسیم کے عمل سے گزررہے ہیں ،مگر یہ بات خوش آئند ہے کہ آج بھی معاشرے میں زندہ دل لوگ موجود ہیں جو دوسروں کیلئے جدوجہد کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ سرکار لوگوں کو اغواءاور گھروں میں چادر وچاردیواری کے تقدس کو پامال کرکے گھروں میں گھس کر ہمارے خواتین کی بے حرمتی کی جارہی ہے آج برمش کے ساتھ اظہاریکجہتی کی جارہی ہے ہونا تو یہ چاہےے تھا کہ یہاں لاکھوں لوگ اکھٹے ہوجاتے اور اظہار یکجہتی کرتے مگر جب ہم صرف دس یا 20 لوگ اکھٹے ہوں تو پھر ریاست بھی ہمارے مسائل سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں مگر بدقسمتی سے جب یہاں کوئی قومی حقوق، واک واختیار ومسائل کے حل کیلئے آواز بلند کی جائے تو لوگوں کو اغواء،ان کے زمینوں پر قبضہ کرکے انہیں زک پہنچایاجاتاہے آج بھی ڈیتھ اسکواڈ فعال ہے ہم نے ان کامحاسبہ کرناہے ریاست سے زیادہ یہ ہمارے لئے خطرناک ہے انہوں نے کہاکہ میں تمام پشتون بلوچ سیاسی وقبائلی قیادت سے اپیل کرتاہوں کہ خدا را ایک ہوجاﺅ تاکہ ان مظالم سے چھٹکارا مل جائے ۔،بلوچ بزرگ رہنماءاورنیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کہاکہ بلوچستان کے ساتھ آج سے نہیں بلکہ 72سالوں سے یہ مظالم اور زیادتیاں چلی آرہی ہے حکمران بلوچستان کے مسائل سمجھنے سے قاصر ہیں ہمیں صوبے کی تمام پارلیمنٹس ،انسانی حقوق کی پلیٹ فارمز پر آوازبلند کرنے کی ضرورت ہے حکمرانوں نے 71کے سانحہ سے بھی سبق نہیں سیکھا اور آج بلوچستان میں مظالم کا سلسلہ جاری ہے ۔
