گرفتار طلباءو طالبات سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے ‘ بلوچستان ہائی کورٹ

گرفتار طلباءو طالبات سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے ‘ بلوچستان ہائی کورٹ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کو ئٹہ:بلوچستان ہائی کورٹ نے آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے طلباءوطالبات سے متعلق انکوائری رپورٹ جلد مکمل کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔جمعرات کو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس نذیر احمد لانگو پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کی طرف سے میر عطاءاللہ لانگو ایڈووکیٹ ،سپریم کورٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ ،ساجد ترین ایڈووکیٹ ،حکومت بلوچستان کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میر شے حق بلوچ پیش ہوئے ،اے اے جی نے عدالت عالیہ کو بتایاکہ حکومت کی طرف سے طلباءوطالبات کی گرفتاری سے متعلق کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی یہ واقعہ محض غلط فہمی کی بنیاد پر پیش آیاہے جس کی انکوائری کی جارہی ہے سماعت کے موقع پر ایڈیشنل انسپکٹرجنرل پولیس عبدالرزاق چیمہ نے بتایاکہ حکومت کی جانب سے طلباءکی گرفتاریوں کا نوٹس لے لیاگیاہے پولیس کی حراست میں لئے گئے تمام گرفتارطلباءوطالبات کو رہا کردیاگیاہے اس وقت کوئی طالب علم پولیس کی حراست میں نہیں ہے ،معاملے کی انکوائری کیلئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں انکوائری کی جارہی ہے جبکہ ایس پی پولیس کوئٹہ سٹی کو بھی معطل کردیاگیاہے ،درخواست گزار کے وکیل میر عطاءاللہ لانگو ایڈووکیٹ نے عدالت کوبتایاکہ حکومت کی جانب سے دہرا معیار اپنایاجارہاہے طلباءکی گرفتاری سے متعلق حکم نہ وزیراعلیٰ مان رہے ہیں نہ ہی پولیس کے اعلیٰ حکام لہٰذاءطلباءپر تشدد اور گرفتاریوں سے متعلق آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں جس پر چیف جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہاکہ آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاجی طلباءوطالبات کی گرفتاری سے متعلق انکوائری ہورہی ہے انہوں نے اے آئی جی کو حکم دیاکہ وہ گرفتاریوں سے متعلق انکوائری رپورٹ جلد مکمل کرکے عدالت میں پیش کرے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!