کوئٹہ:بلوچستان کے قلات ڈویژن کے لئے مستو نگ نیشنل ہاہی ویئے پر قائم شہیدنواب غوث بخش رئیسانی میموریل سرکاری ہسپتال میں ہزاروں افراد کا علاج معالجہ کیا جارہا ہے تاہم سالانہ گرانٹ کم ہونے کی وجہ سے ہسپتال انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے نواب غوث بخش ہسپتال میں قلات،مستونگ،خضدار،خاران،نوشکی ،سوراب سمیت دیگر اضلاع سے مریض آتے ہیں ہسپتال انتظامیہ جانب سے ہسپتال کا رقبہ بڑا ہونے کے باعث نئی اوپی ڈی،شعبہ حادثات اور ٹراماسینٹر کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ 8بیڈز پر مشتمل ایمرجنسی یونٹ میں رش بڑھا گیا ہے ترجمان شہیدنواب غوث بخش میموریل ہسپتال ارباب اویس کاسی کے مطابق ہسپتال میں دو سرجن،دو گائنالوجسٹ،ایک کارڈیالوجسٹ،پیڈز،آئی اسپیشلسٹ سمیت دیگر ماہر عملہ اپنا خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ جدید ایکسرے،لیبارٹریز،او پی ڈی،آپریشن تھیڑ ،آئی سی یو،سی سی یو،لیبر روم بھی مکمل طور پر فعال ہیں جس سے قلات ڈویژن کے عوام مستفید ہورہے ہیں جبکہ ہسپتال میں کوروناوائرس کے لئے آئیسولیشن سینٹر بھی قائم ہے جہاں کوروناوائرس کے ٹیسٹ بھی روزانہ کی بنیاد پر کئے جا رہے ہیں نواب غوث ہسپتال کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسرڈاکٹر داد محمد خوجہ خیل کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم کے دور حکومت میں ہسپتال کی بنیاد رکھی گئی جو 75بیڈز پر مشتمل ہے نیشنل ہائے پر قائم ہونے کے باعث عوام کو رجحان مستونگ نواب غوث بخش ہسپتال میں زیادہ ہے یہاں تمام امراض کا علاج معالجہ کیا جاتا ہے جبکہ خصوصاروڈ حادثات و اقعات ،زچہ وبچہ کے لئے مریض بڑی تعداد میں یہاں کارخ کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہسپتال 25ایکٹر رقبے پر قائم ہے یہاں نئی اوپی ڈی،ٹراما سینٹر اور شعبہ حادثات کے لئے الگ یونٹ بنایا جاسکتاہے جس کی پرپوزل حکومت بلوچستان کا بھیجوادی ہے 20کروڑ روپے کاگرانٹ ہسپتال کو سالانا ملتا ہے 6سرجن سمیت دیگر 350افراد کاعملہ ہسپتال میں اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے سالانہ گرانٹ کی 20میں مریضوں کو تمام تر طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہے جس میں آپریشنز،ادویات،ایکسرے،ٹیسٹ سمیت دیگر سہولیات دی جارہی ہے اگر ہسپتال کو گرانٹ کو 30کروڑ روپے تک بڑھایا جائے تو ڈیولپمنٹ میں مدد گار ثابت ہوگئی ہسپتال میں آئے مریضوں نے ہسپتال کے طبی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہیدنواب غوث بخش میموریل ہسپتال میں نہ صرف انہیں علاج معالجہ فراہم کیا جاتا ہے بلکہ انہیں مفت ادویات بھی مہیا کی جا تی ہے تاہم ہسپتال کی بلڈنگ محدود ہونے کے باعث مریضوں کو مشکلات درپیش ہے عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہیدنواب غوث بخش میموریل ہسپتال میں مزید بلڈنگز تعمیر کرائے جائے تاکہ مریضوں کو بروقت طبعی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سی قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے ۔
