اگرعمران خان منتخب وزیراعظم ہیں تو ڈر کیسا اور کابینہ کیوں پریشان ہے ‘ غفور حیدری

اگرعمران خان منتخب وزیراعظم ہیں تو ڈر کیسا اور کابینہ کیوں پریشان ہے ‘ غفور حیدری

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد:جمعیت علما اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل وسینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاہے کہ اگر عمران خان منتخب وزیراعظم ہیں تو ڈر تے اور کابینہ پریشان کیوں ہے ،پارلیمنٹ کی موجودگی کے باوجود صدر ہاﺅس سے جزائر سے متعلق آرڈیننس 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے ،آئی جی سندھ کے واقعہ میں وفاق ایک ملزم اور ملزم کی جانب سے تحقیقات کو تسلیم نہیں کرینگے ،سلیکٹڈ حکومت سول وریاستی اداروں میں چھانٹی کررہی ہے ،کوئی شعبہ نہیں جس سے وابستہ لوگ سراپااحتجاج نہ ہو،حکومت مستعفیٰ ہوں ورنہ انہیں گھر بھیجنے کے ہمارے پاس بے شمار آپشنز ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔مولاناعبدالغفور حیدری نے کہاکہ پی ڈی ایم کے اب تک صرف دو جلسے ہوئے لیکن پہلے سے ہی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اب کوئٹہ میں جلسہ ہوگا جو تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہو گا،انہوں نے کہاکہ بقول عمران خان کے وہ منتخب وزیراعظم ہیں تو ڈر کیوں رہے ہیں،پی ڈی ایم سے پوری کابینہ پریشان ہے اور انتقام کی سیاست پر اتر آئی ہے ،انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ موجود ہے مگر صدر ہاﺅس آرڈیننس کی فیکٹری بنا ہوا ہے آرڈیننس کے ذریعہ سندھ اور بلوچستان کے جزائر وفاق کی تحویل میں دے دئےے کیا یہ اٹھاویں ترمیم کی خلاف ورزی نہیں،جس طرح سندھ میں چادر اور چاردیواری کا تقدس وفاق نے پامال کیااتنی بڑی شخصیت محفوظ نہیں تو عام شہری کی کیا حالت ہوگی انہوں نے کہاکہ آئی جی سے ناروا سلوک کیا گیا اور گن پوائنٹ پر دستخط لیے گئے کہا جا رہا ہے کہ وفاق تحقیقات کر رہا ہے وفاق ہی تو ملزم ہے وہ کیسے جج, قاضی اور منصف بن سکتا ہے اس ملزم کی تحقیقات کو ہم تسلیم نہیں کرتے مولاناحیدری نے کہاکہ یہ روزگار فراہم کرنے آئے تھے پی ٹی وی سے ساڑھے پانچ سو افراد کو نکال دیا ریڈیو پاکستان سے 740 ملازمین کو نکال دیا گیا حکومتی اور ریاستی اداروں میں چھانٹی کی جا رہی ہے کسی شعبے کو انھوں نے نہیں چھوڑاسول سرونٹس ،لیڈی ہیلٹھ ورکرز اور ڈاکٹرز نے احتجاج کیاشعبہ زراعات، صنعت اور تجارت سراپہ احتجاج ہے مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں دو سو فیصد اضافہ ہو گیاآٹا 32 سے 74 روپے کلو, چینی 55 سے ایک سو دس پر پہنچ گئیانہوں نے کہاکہ حکومت کہتی ہیں یہ سب ڈالر کی وجہ سے ہو گیا ہے کیا عوام اس حکومت کو مزید دیر تک برداشت کر سکتے ہیں؟؟مولاناعبدالغفور حیدری نے کہاکہ اگر کوئٹہ کے جلسے میں کچھ ہوا تو ذمہ داری سلیکٹڈ اور اس کو لانے والوں پرعائد ہوگی ،ہم سے شف شف نہیں ہوگا، ہم شفتالو ہی کہیں گے انہوں نے کہاکہ اب اس حکومت کے پاس اسمبلیاں تحلیل کرنے اور استعفے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے اس حکومت کو روز اول سے تسلیم نہیں کرتے، یہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے ہماری تحریک اس حکومت کے مخالف ہے، سینیٹ الیکشن کی وجہ سے نہیں بلکہ ہم اس حکومت کو آئینی ہی تسلیم نہیں کرتے حکومت نے استعفی نہ دیا تو پھر ہمارے پاس اس حکومت کو گھر بھیجنے کے بےشمار آپشنز ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!