اسلام آباد:بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی محرومیاں آج کی نہیں 70سال سے ہیں ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ ان محرومیوں کے ذمہ دار ہماری قدرت ہے لیکن دیکھا جائے اس ملک پھر 70سالوں سے جو حکمرانی کی جا رہی ہے جو بھی حکمران آیا وہ پنجاب کے ووٹوں کے بغیر نہیں آیا نہ آیا نہ کبھی آ سکے گا ووٹ ان کو دیئے جاتے ہیں جو پارلیمنٹ حکمرانوں کو منتخب کر لے لاتی ہے ان حکمرانوں کا زیادہ تر تعلق پنجاب سے ہوتا ہے اکثریتی پنجاب کی ہوتی ہے لوگوں کو گلا کل بھی تھا گلا آج بھی ہے اور گلا کل بھی رہے گا پنجاب کے عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکمرانوں سے پوچھ گچھ کرے ہم تو فریاد کرتے رہتے ہیں لیکن حکمرانوں سے پوچھنا حساب لینا پنجاب کے عوام کا کام ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلہ بے روزگاری کا نہیں ہے ہمارے ساحل وسائل ‘ وفاقی میں بلوچستان کے 6فیصد کوٹہ اس کی فراہمی کا ذمہ دار کون ہے وفاق میں بلوچستان کے کوٹہ پر عمل کیا جاتا تو کسی حد تک بلوچستان میں بےروزگاری کی شرح کم ہوتی بلوچستان کے وسائل بلوچستان کو دے دیئے جاتے تو کسی حد تک محرومیوں کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکتا تھا انہوں نے سوال کیا کہ مجھے بتایا کہ بلوچستان کے علاوہ پاکستان کے کس حصے میں پانچ آپریشن کئے گئے لوگوں کو لاپتہ کیا گیا آپریشن کے دوران دوسرے صوبوں سے بھی لوگ لاپتہ ہوئے بلوچستان سے یونٹ کی طرح نہیں کالونی کی طرح برتاﺅ کیا گیا اس کالونی میں میڈیا پر پابندی ہے اظہار رائے پر بھی پابندی ہے یہاں ووٹ دینے پر پابندی ہے بلوچستان سے شروع ہونے والا سلسلہ ملک کے دیگر حصوں تک پہنچ چکا ہے ہم روز اول سے کہتے آ رہے ہیں کہ ہم پر رحم کیا جائے ہماری آواز دبائی جا رہی ہے کل یہ آپ تک پہنچ جائے گی ملک کے دوسرے حصوں سے بھی صحافی اٹھائے جا رہے ہیں ‘ سیاسی رہنماﺅں کی آواز دبائی جا رہی ہے بیلٹ کو بلٹ کے ذریعے تبدیل کیا جا رہا ہے پنجاب میں تبدیلی آ رہی ہے اگر اسی طرح تبدیلی آتی رہی اور تبدیلی قائم رہی تو ملک میں مثبت تبدیلی آنے کے امکانات ہیں اگر تبدیلی آج جو پنجاب اور بلوچستان کی دور نزدیکی میں تبدیل ہو سکتی ہے 70سالوں کے بعد اگر پنجاب کو احساس ہوتا ہے تو اچھی بات ہے بلوچستان کے جو لوگ ناراض ہیں ان کی بھی وجوہات ہیں رات کی تاریکی میں وحی تو نازل نہیں ہوئی تھی کہ بلوچستان کے لوگ ناراض ہو گئے ان کی ناراضگی کے پیچھے بھی احساس محرومی اور زیادتیاں ہیں ظلم و زیادتیوں نے ناراضگی کی حد تک معاملات کو پہنچایا اس میں بھی شک نہیں کہ ہمارے لہجے میں بھی تلخی تھی اور ہے مگر تلخی کو ختم کرنے کیلئے اگر حکمران مثبت رہ اختیار کرتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ جو ناراض ہیں ان کے بھی واپس آنے کے امکانات ہیں مگر اب یہ ہے کہ ملک میں غداروں کی تعداد بڑھ گئی ہے اب ہمیں تنہائی محسوس نہیں ہو رہی غداروں میں اضافے کے بعد ہم اکیلا پن محسوس نہیں کر رہے جس کسی پر غداری کا الزام لگے تو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کبھی نہ کبھی اپنے قوم اپنے وطن سے اظہار محبت کی ہو گی اقتدار کی خوش فہمی ‘ خوش خیالی میں کبھی اپنے آپ کو نہیں ڈالا نہیں ڈالنے کی کوشش کریں گے اقتدار سامنے کسی اور اسٹیج کے پیچھے کسی اور کے پاس ہے اقتدار بغیر اختیار کے بے معنی ہے اقتدار میں رہنے والوں کے زوال کی وجہ بھی یہی ہے کہ اقتدار تو ان کے پاس تھا مگر اختیار کسی اور کے پاس تھااگر اقتدار والوں نے اختیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس کو گھر بھیج دیا گیا انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ الزام ہمیشہ لگتے رہے ہیں جن پر الزام لگائے جاتے رہے پھر وہ حکومتوں کا حصہ بنتے رہے مختلف ممالک پر الزام لگائے جاتے رہے کہ وہ بلوچستان میں پولیٹیکل ‘ ڈیموکریٹک جدوجہد یا علیحدگی کی تحریک الزام سوویت یونین ‘ عراق سے ہتھیار لانے کے الزام لگائے گئے کیا 80کے بعد نیب پارلیمنٹ کا حصہ نہیں رہی نیپ کے بعد کی پارٹیاں بھی اسی پارلیمنٹ کا حصہ رہی ہیں عسکریت پسندی کے پیچھے بہت بڑی داستان ہے روز اول سے محرومیوں کو ختم کر دیا جاتا تو شاید ہتھیار نہیں اٹھایا جاتا کوئی بھی اپنے گھر ‘ والدین کو چھوڑ کر پہاڑوں میں نہیں چھپتا پہاڑوں پر باعث مجبوری جاتے ہیں مجبوری میں ہتھیار اٹھائے گئے کسی نے شوق سے ہتھیار نہیں اٹھایا شہید نواب اکبر خان بگٹی 80سال کی عمر میں اس پوزیشن میں تھے کہ وہ ہتھیار اٹھاتے نواب بگٹی کو مجبور کیا گیا کہ وہ پہاڑوں میں جا کر پناہ لیں نواب بگٹی کو بھی کہا کہ ایسا نہیں ماریں گے ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا اور یہ کر کے دکھایا گیا میرے بھائی بھی سینٹ کا حصہ تھے آج وہ باہر بیٹھے کوئی تحریک چلا رہے ہیں نہیں چلا رہے ہماری پارٹی نے کبھی بھی کسی عسکریت کی حمایت نہیں کی ہاں یہ ہم نے یہ کہا کہ اگر کسی نے کوئی گناہ کیا گیا تو عدالتیں ہیں ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے ملک تھوڑنے والوں کو وہ سزا دی گئی جو یہاں حق مانگنے والوں کو دی جا رہی ہے طالبان سے بات کی جا سکتی ہے جنہوں نے سکولوں میں بچوں کو مارا ‘ سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا ‘ طالبان نے نہ مسجد چھوڑی ‘ نہ گرجاگھر چھوڑا نہ مندرچھوڑی نہ سڑکیں ان سے محفوظ رہیں ان سے تو گفتگو کی جا سکتی ہے بلوچستان کے لوگ جو باہر ہیں یہ یا ملک اندر اس سے بات کرنے کو گناہ کبیر ا سمجھا جاتا ہے لاپتہ افراد کا مسئلہ جنرل مشرف کے دور سے شروع ہوا سب سے پہلے مسنگ پرسن میرے بھائی اسد اللہ مینگل تھے لاپتہ افراد میں کمی آنے کی بجائے بدستور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوا اس دوران مسلم لیگ (ن) ‘ پیپلز پارٹی کی حکومتیں بھی آئی مگر ان ادوار میں بھی کمی نہیں آئی ‘ سپریم کورٹ ‘ سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں سے ملاقاتوں میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو اٹھایا اس وقت بھی یہی لگتا ہے جس کے خود اب وہ اظہار کر رہے ہیں کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ان کے بس میں نہیں تھا انہوں نے بھی مجھے آرمی چیف سے ملنے کا کہا موجودہ حکمرانوں نے بھی کہا کہ آرمی چیف سے ملیں آرمی چیف سے بھی ملا اس میں کوئی شک نہیں ہم نے انہیں لاپتہ افراد کی فہرستیں دیں ہمیں کہا گیا کہ ہم ڈھونڈ رہے ہیں کچھ ہیں اور کچھ نہیں ہیں 450سے زائد لوگ بازیاب ہوئے 5128کی فہرست قومی اسمبلی میں پیش کی 1500کے قریب لوگ لاپتہ بھی ہوئے حکمران جب خود کہہ دیں کہ لاپتہ افراد کی بازیابی ہمارے بس میں نہیں آرمی چیف سے مل لیں لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل تک بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے اختیارات کے مالک منتخب نمائندے ہوئے تو لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے حکومت نہیں بلکہ جو انتخابات ہوئے ان میں بھی دھاندلی ہوئی الیکشن کے فوراً بعد ہم نے کہا تھا کہ ہمارا مینڈیٹ بھی چوری کیا گیا پارلیمنٹ میں ہمارے ساتھ ساتھ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں نے بھی کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے ہم نے بلوچستان کے مسائل حل کرنے کیلئے حکومت کو ووٹ دیا ‘ وزیراعظم ‘ سپیکر ‘ ڈپٹی سپیکر کو ووٹ دیا حکومت کا حصہ ہم تب ہوتے جب ہم وزیر اور مشیر بنتے نہ وزراءکی ڈیمانڈ کی نہ مشیر کیلئے شیروانی بنانے کی کوشش کی عوام نے ہمیں ووٹ بلوچستان کے مسائل حل کرنے کیلئے دیا تھا لاپتہ افراد کا مسئلہ بلوچستان کے سب سے اہم مسئلہ ہے پیپلز پارٹی نے بھی حکومت سازی کے وقت ہم سے ملاقات کی ہم نے اپنے نکات ان کے سامنے رکھے تو انہوں نے بے بسی کا اظہار کر دیا پی ٹی آئی والے خود ہمارے پاس کوئٹہ آئے اور ہمارے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے اور مسئلہ کے حل کی یقین دہانی کرائی ہم اسمبلی فور پر بھی ان کو یاد دہانی کراتے رہے میٹنگوں میں ہم یاد دہانی کراتے رہے انہوں نے کہا کہ جام صاحب نے جو الزام لگایا اس وقت ہم اپوزیشن میں تھے اپوزیشن کا آئینی قانونی حق ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے عدم اعتماد کی تحریک اس وقت کامیابی ہوتی ہے جب ہمارے میں بیٹھے لوگ اپنی حکومت کی پالیسیوں ‘ اپنی حکومت کی کارکردگی یا ان کی نااہلی کی وجہ سے وہ اپوزیشن کا ساتھ دیں تب کامیابی ملتی ہے گزشتہ حکومت میں عدم اعتماد کی تحریک میں ہماری اتنی تعداد نہیں تھی جس وقت ہمیں موقع ملا ہم تحریک عدم اعتماد لائیں گے وفاق میں عوام کی منتخب حکومت آئی تو بلوچستان کے ساتھ ساتھ ملک کے مسائل حل ہو سکتے ہیں جام صاحب کی حمایت میں جو لوگ حکومتی بنجز پر بیٹھے ہیں وہ 2006ءمیں نواب بگٹی کی شہادت کے وقت وزیراعلیٰ بلوچستان کون تھے جام صاحب ہم پر الزام لگانے سے پہلے اپنے آس پاس بھی دیکھیں حکومتیں اپنے غلط فیصلوں ‘ نااہلی کی وجہ سے جاتیں ہیں جو قوتیں حکومتیں گراتی بھی ہیں اور حکومتیں بناتی بھی ہیں مجھے ان سے امید نہیں کہ وہ حکومت گرانے میں کوئی کردار ادا کریں گی مہنگائی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ایوان میں پی ٹی آئی اراکین بھی چیخ رہے ہیں ادویات ‘ کھانے پینے کی اشیاءمہنگی ہو گئی ہیں یہاں زہر سستا تھا مگر اب وہ بھی عوام کی قوت خرید سے باہر ہے موجود ہ حکومت کے مزید رہنے کا کوئی جواز نہیں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جو بھی اکثریت فیصلہ ہو گا چاہے وہ استعفوں کا ہو یا تحریک عدم اعتماد کا ہم اس کے ساتھ ہوں گے کم تر طاقت میں کوئٹہ کے جلسے کو کامیاب کر کے عوام نے ثابت کر دیا کہ سیاسی جدوجہد میں بلوچستان کے عوام کسی سے پیچھے نہیں ہیں سی سی اجلاس سے استعفوں ‘ تحریک عدم اعتماد کی منظوری لے لی ہے پی ڈی ایم میں شامل ہر جماعت کا اپنا موقف ہے اپنا نظریہ اپنا سیاست ہے نہ ہم کسی کے موقف سے اختلاف کریں گے نہ کسی کو یہ حق ہے کہ وہ ہمار ے موقف پر اختلاف رکھے پاکستان ڈیمو کریٹک کا مقصد صاف شفاف انتخابات ہیں کسی بھی ادارے کی عدم مداخلت ‘ حقیقی جمہوریت او رآئین کی حکمران ہے انہوں نے کہا کہ سی پیک کی بنیاد یعنی پہلی اینٹ غلط رکھ دی گئی ہے سی پیک سے فائدہ بلوچستان کو ہونا چاہئے مگر آج تک بلوچستان کو سی پیک سے کوئی فائدہ نہیں ہوا گوادر‘ بلوچستان کے بغیر سی پیک نامکمل ہے دوسرے صوبوں میں موٹروے بنا دیئے گئے مگر بلوچستان میں کچھ نہیں بنا اورنج لائنیں بنا دی گئیں ہمیں بلیک لائن تک نہیں دی گئی ریلوے ٹریک میں بھی ایک انچ اضافہ نہیں ہوا گوادر کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں گوادر میں بجلی بھی ایران سے آ رہی ہے ہزاروں سالوں کی جدی پشتی زمینوں کو سرکار کے نام پر منتقل کیا جا رہا ہے ماہی گیروں کو بے روزگار کیاجا رہا ہے جزائر کو وفاق تحویل میں لے رہا ہے بد نیتی پر رکھی گئی اینٹ کو سیدھا کیا گیا تو ہی عوام سی پیک کو تسلیم کریں گے اگر پاپا جونز کے پیزے ہوئے تو وہ ہمیں نہیں ملیں گے
