کوئٹہ:بلوچستان یونیورسٹی کے بازیاب ہونے والے پروفیسرشبیر شاہوانی کا کہنا ہے کہ اغوا کارہمیں دو گھنٹے تک گاڑی میں گھماتے رہے،اغوا کار ہم سے چھ کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ اس دوران وہ ہم پر تشدد اور زدوکوب بھی کرتے رہے پولیس کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی کے بازیاب ہونے والے پروفیسر شبیر شاہوانی نے پولیس کو اپنے دیئے گئے بیان میں بتایا کہ اغوا کار ہمیں دو گھنٹے تک گاڑی پر گھماتے رہے اس دوران ہم پر تشدد اور زدوکوب کرتے رہے وہ ہم سے بار بار ہماری تنخواہوں سے متعلق سوال کرتے رہے پروفیسر شبیر شاہوانی کا کہنا تھا کہ اغوا کارہم سے چھ کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کر رہے تھے تاہم کچھ دیر بعد انھوں نے ہمیں کانک کے علاقے اغبرگ کے قریب چھوڑ دیا اور جاتے ہوئے ہمارے موبائل فون اور نقدی بھی لے گئے بازیاب ہونے والے پروفیسر شبیر شاہوانی کا کہنا تھا کہ اغوا کار پروفیسر لیاقت علی سنی کو ساتھ لے گئے وہ تین گاڑیوں میں سوار تھے پولیس کے مطابق اغوا کا مقدمہ سٹی پولیس تھانے میں درج کر لیا گیا ہے اور اس حوالے سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔
