سپریم جوڈیشل کونسل کے تعصب سے متعلق میری درخواست پر سماعت ہی نہیں کی گئی، جسٹس قاضی فائز

سپریم جوڈیشل کونسل کے تعصب سے متعلق میری درخواست پر سماعت ہی نہیں کی گئی، جسٹس قاضی فائز

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدارتی ریفرنس کے خلاف آئینی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اضافی درخواست داخل کر دی اور کہا کہ سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے تعصب سے متعلق میری درخواست پر سماعت ہی نہیں کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نظر ثانی درخواست میں استدعا کی ہے کہ سماعت ٹی وی پر براہ راست نشر کرنے کا حکم دیا جائے۔ درخواست میں انہوں نے کہا کہ سرکاری عہدیداروں نے میرے اور میرے اہل خانہ کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلائی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھی لارجر بینچ کا حصہ بنایا جائے اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے فیصلے میں میری درخواست کو قابل سماعت قرار دیا جائے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا ہے کہ 19جون 2020 کے فیصلے کے پیرا گراف دو تا 11 پر نظر ثانی کر کے ان کو واپس لیا جائے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بھیجنے کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ ایف بی آر کی رپورٹ سے میں اور میری اہلیہ متاثر ہو سکتے ہیں، ایف بی آر کی رپورٹ نہ مجھے اور نہ میری اہلیہ کو فراہم کی گئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایف بی آر کی رپورٹ بھی صدارتی ریفرنس کی مانند میرے اور میری اہلیہ کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کے لیے میڈیا کو لیک کی گئی۔ نظرثانی کی اضافی درخواست میں انہوں نے کہا کہ جون کے فیصلے سے عدلیہ کی آزادی کو انتظامیہ کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے جو آئین کے برخلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس کے بعد ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے اپنی درخواستوں میں مجھے جج کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!