تحریر جہانزیب بلوچ
جب ادب اور صحافت کی بات ہو جائے ۔ تو ذہن میں ایک شخص کا نام فورا آجاتا ہے ۔جو علم و ادب کی شمع کو بجھانے نہیں دیا ۔صحافت اور ادب کے میدان میں قدم رکھ کر علم کے شمع کو قائم ودائم رکھا ۔ قارئین میں آج اس معزز اور محترم صحافی و ادیب جناب برکت زیب سمالانی کے بارے میں اپنے قلم سے تحریر لکھ رہا ہوں جو صحافت اور ادب کے کیلئےگران قدر خدمت سر انجام دے رہا ہے ۔ضلع نوشکی سمیت صوبہ بلوچستان کے ادب اور صحافت سے تعلق رکھنے والے ادیب دانشور اور صحافی اسے بخوبی اچھی طرح سے جانتے ہیں۔متحرم برکت سمالانی ادب اور صحافت سے واقف ایک معتبر شخصیت ہے ۔براہوی اردو ودیگر زبانوں میں مضمون نگاری قلم نویسی شاعری ڈائری لکھنے میں اپنی مثال آپ ہے ۔ محترم برکت زیب سمالانی کو نوشکی کے عوام ایک دوست کی طرح جانتے ہیں۔کیونکہ اس کا تعلق بھی ضلع نوشکی سے ہیں ۔ادبی اور صحافت کے میدان میں کسی سے بھی ایک قدم پیچھے نہیں ۔جب صحافت کی بات کی جائے تو یہ نڈر صحافی ہر مسائل کو جس بہترین انداز سے پیش کرتا ہے اس کی کوئی مول نہیں ۔بیانات کو کوریج دلوانا ۔مسائل کی نشاندھی کروانا ۔ضلع نوشکی میں بھائی چارے کا فضا قائم کروانے کیلئے آرٹیکل اور کالم لکھنا جو کہ علاقہ دوستی کی ایک بہترین مثال ہے ۔ نواجوان اور بزرگ ان کے بہترین و شعوری صحافت سے بہت خوش ہے ۔ موصوف صحافی و ادیب جس محنت سے علم اور ادب کے فروغ کیلئے کوشش کی ان کی کاوشوں کو ہر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بہت سراہا بھی ہے ۔کسی مجلس و ادبی دیوان میں ان کی موجودگی ایک بڑے شرف سے کم نہیں
جب ہم محترم برکت زیب سمالانی کے زندگی پر روشنی ڈالتے ہیں تو ہمیں ان کی محنت کا پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے جس مخت سے تعلیم حاصل کی ۔ اور اپنا تعلیم کو پورا کیا ۔شائد بہت کم لوگ ہونگے جو غربت کے باعث اپنا تعلیم مکمل جاری رکھ سکے کیونکہ غربت اور تنگ دستی کے باعث آج کل بہت سے طالب علم اپنا تعلیم مذید آگے جاری نہیں رکھ سکتے ۔بہت سے لوگ ہے جوغربت کے سبب تعلیم اپنا آئندہ جاری نہیں رکھ سکتے ہیں۔ ہار مان کر اپنا تعلیم ادھورا چھوڑ دیتے ہیں محترم برکت زیب سمالانی کی جرت کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے علم کے شمع کو بجھنے نہیں دیا ۔اور مزید محنت کرکے صحافت اور ادب کے میدان میں اپنا ایک الگ مقام بنایا ۔اور اپنا نام پیدا کیا۔جو ایک علم دوست انسان کی پہچان بن چکی ہے ۔ کیونکہ جناب برکت زیب سمالانی کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہیں غربت اور تنگ دستی کے باعث ہار نہیں مانا اور علم کی شمع بجھانے نہ دیا اور علم کی شمع کو مزید روشن کیا ان کی مضمون نگاری، افسانہ نگاری اور شاعری سے نوجوان قلم کار فائدہ اٹھا رہے ہیں جو ایک علم دوستی کا ثبوت ہے۔کیونکہ علم دوستی وہ چیز ہے جو گھر اور معاشرے کو اجالا بنا دیتا ہے ،۔جناب برکت زیب سمالانی نے قلم ہاتھ میں اٹھا کر علم و ادب اور صحافت کا علم بلند کیا ۔علم دوست لوگوں سے فوائد حاصل کرتے رہے ۔ ادب اور صحافت کے میدان میں نکل پڑا جو ایک مرد مجاہد کی طرح ہے،
براہوی، بلوچی، اردو کے مضامین ادبی ڈائری لکھنا شروع کیا۔جو ان کے مادری اور قومی زبان سے محبت اور شوق کا حصہ ہے جناب برکت زیب سمالانی معاشرے میں علم دوستی کی وجہ سے ایک بہترین مثال بن چکا ہے ۔
