عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں رپورٹ ہونے والے کرونا وائرس کی نئی شکل کے نمونوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ کرونا کی عام لہر سے ہٹ کر کوئی زیادہ مہلک یا زیادہ شدید قسم ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اب بھی لوگ جو بہترین کام کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے رہیں۔ جنیوا کے صدر دفتر میں ادارے کی معمول کی بریفنگ میں عالمی ادارہ صحت کے عہدے داروں نے کہا کہ وہ کرونا کی اقسام سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں اور ان کو برطانیہ سے ایسی رپورٹیں بھی مل رہی ہیں کہ وہاں کرونا کی نئی قسم زیادہ آسانی سے ایک سے دوسرے میں منتقل ہو سکتی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہینم گیبراسس نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ سائنس دانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ کس طرح سے یہ جینیاتی تبدیلیاں کرونا وائرس کے طریقۂ کار کو متاثر کر سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وائرس وقت کے ساتھ شکلیں تبدیل کرتے ہیں
