۔تحریر- پروفیسرغلام دستگیرصابر
۔وہ 1967میں کوئٹہ میں حاجی فضل محمدعلیزئی دہوارکے گھرمیں پیداہوا۔والدصاحب بھی عجیب انسان تھے ان پڑھ مگراللہ پاک نے اتنی زہانت اورعقل سلیم سے نوازاتھاکہ اعلی تعلیم یافتہ لوگ گنٹھوں اس کے پاس بیٹھ کرتاریخ اسکی زبانی سنتے۔فاروق بلوچ اسکا منجھلابیٹاہے۔فاروق بلوچ نے ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول کوئیٹہ سے حاصل کی پھرکبھی مڑھ کرپیچھے نہیں دیکھا۔باپ کی زبانی بلوچستان کی تاریخ سن سن کرفاروق بلوچستان کی تاریخ سے پہلے محبت کی اوربلآخروہ بلوچستان کاعاشق بلکہ مجنون بن گیا۔تاریخ میں ایم۔اے پھرایم فل اور آخرمیں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ہسٹری کاپروفیسربناآجکل بلوچستان اسٹڈی سنٹرکاڈائریکٹرہےسچے عاشق کی طرح لمحہ بہ لمحہ اسکی محبت بڑھتی جارہی ہے۔وہ بلوچستان کا،،مجنون،،ہے اسکی ،،محبوبہ ،،کانام بلوچستان ہے۔وہ شہ مریداور بلوچستان،،ہانی،،وہ بلوچستان کا چپہ چپہ گھومتاہے۔بلوچستان کی تاریخ کاحافظ ہے۔یہ عجیب عاشق ہے بلوچستان کے نوادرات ڈھونڈتاہے۔اور بلوچستان اسٹڈی سنٹرجامعہ بلوچستان میں ایسے سجاتاہے جیسے ایک نوجوان عاشق اپنی محبوبہ کے خطوط اورتحائف۔جوبھی صاحب علم ہاتھ لگے اسے پکڑکربلوچستان اسٹڈی سنٹرکے میوزم لے جاتاہے جس طرح ایک معصوم بچہ خوشی خوشی اپنے کھلونے دوسروں کودکھاتاہے اسی طرح فاروق بلوچ ہرشخص کومیوزم دکھاتااور کہتاہے۔یہ آٹھ ہزارسال پرانامٹکہ ہے۔یہ نوہزارسال پرانی چیزہے۔ہرچیزکی اتنی خلوص سے تعریف کرتاہے جیسے کوئی اپنی محبوبہ کے حسن اورخوبصورتی اور اسکی زیورات کی۔وہ مسلسل سگریٹ پیتاہے مگرجب کلاس لیتاہے تو اسے گنٹھوں تک سگریٹ کیاچائے اورپانی کاسدھ بھی نہیں رہتا۔جس طرح ایک نوجوان عاشق بہت مزے لے لے کراپنے ہمرازدوستوں کے ساتھ اپنی محبوبہ کے حسن و جمال کی تعریف کرتاہے اسی طرح فاروق بلوچ بہت مزے سے بلوچستان کی تاریخ،سیاست،خوانین،مزارات مسجدوں،مندروں،آثارقدیمہ وغیرہ کی تاریخ سناتاہے۔وہ بولتاہے مسلسل بولتاہے اور ایسی دلکش اندازمیں بولتاہے کہ طلباء کی آنکھوں کے سامنے وہ سارے مناظر آتے ہیں۔آثارقدیمہ کی تلاش میں وہ ایک بے چین عاشق کی طرح گھومتاہے۔اس نے دوہزارسے زیادہ آثارقدیمہ کے سائیٹس دریافت کئے۔اس نے بائیس اضلاح کے آرکیالوجیکل سائیٹس تلاش کی ۔میں حلفیہ کہتاہوں جب وہ مجھ سے کہتاہے دستگیریار نوشکی کے سیادم ،سوردم، بٹو وغیرہ کے کتنے تاریخی آثارہیں۔ریکوکی قبرستان آٹھ سوسال پرانی ہے۔میں شرم سے ڈوب کر جی جی کرتاہوں کیونکہ اپنے ہی شہرکی تاریخ سے میں خود واقف نہیں ہوں اور فاروق بلوچ سارے بلوچستان کی نہ صرف تاریخ آثارقدیمہ بلکہ زرے زرے سے واقف ہے۔اس کے بتیس،،ریسرچ آرٹیکلز،،شاہع ہوچکے ہیں۔
فاروق بلوچ صبح یونیورسٹی آتا ہے شام کو واپس گھرجاتا ہے۔اسکی مسلسل تاریخیں لیکچرز،دفترمیں ہجوم،طلباءکارش،چائے کی خوشبو،سگریٹ کادھواں،قہققہے دیکھ کرہرانسان میری طرح سوچتاہے کہ یہ کب پڑھتااورلکھتاہے؟فاروق بلوچ ایک ،،جن ،،ہے۔رات کے کھانے کے بعد یہ،،جن،، اپنے اسٹڈی روم میں جاتاہے اورصبح چاربجے تک پڑھتااورلکھتاہے۔اس کی ہرکتاب ایک الگ تاریخ ہے۔خان اعظم،بلوچ اور ان کاوطن،بابامیرحمزہ بلوچ،تہزیبی نقوش،بلوچستان اوربرطانوی مورخین وغیرہ اس کی بے مثال کاوشیں ہیں۔وہ کہتاہے کہ علامہ ابن خلدون نے تاریخ کے بارے میں چالیس ہزارصفحات لکھے ہیں لیکن میری خواہش میرامقصد اور میرا ارمان ہے کہ میں بلوچستان کے بارے میں پچاس ہزار صفحات لکھوں۔پروفیسرڈاکٹرفاروق بلوچ آپ بلاشبہ اس دھرتی کے حقیقی پروفیسر،مورخ،دانشور اور حقیقی ہیرو ہیں۔آپ مہان ہیں۔آپ پرہمیں ناز ہے۔آپ پرہمیں فخرہے۔
