کوئٹہ: بلوچستان حکومت اور زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ، 8نکاتی معاہدے پر دستخط کردئےے گئے۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کو بلوچستان حکومت اور زیارت شہداءکی دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا فیصلہ کن دور پشتونخواءملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالرحیم زیاتوال کی رہائشگاہ پر منعقد ہوا جس میں حکومتی کمیٹی کی سربراہی وزیر صحت بخت کاکڑ ،صوبائی وزراءمیر ضیاءلانگو،میر سلیم خان کھوسہ ،میر عاصم کرد گیلو، سینیٹر منظور کاکڑ بلال کاکڑ اور کمشنر کوئٹہ شاہ زیب کاکڑ شامل تھے جبکہ زیارت شہداءدھرنا کمیٹی کی نمائندگی عبدالرحیم زیارتوال، اصغر خان اچکزئی ،ڈاکٹر اسحاق بلوچ، میر اختر حسین لانگو سمیت دیگر نے کی ۔ معاہدے کے بعد حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی مفاہمتی کوششیں کامیاب ہوگئیں جس کے بعد حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہوئے ، تحریری معاہدہ طے پا گیا ہے ۔ فریقین نےشہدائے زیارت کے لواحقین کے مطالبات پر عملدرآمد اور صوبے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا ہے ۔ معاہدے میں شہدائے زیارت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا ہے ، وزیر اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں امن و امان کی صورتحال پر اپوزیشن جماعتوں اور شہدا کے لواحقین کا مشترکہ ان کیمرہ اجلاس منعقد ہوگا،بلوچستان کے شہری علاقوں میں پولیس فورس کی استعداد، افرادی قوت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا،شہدائے زیارت کو مروجہ پالیسی کے تحت شہید قرار دیا جائے گا، لواحقین کی کفالت، بچوں کی تعلیم اور معاوضہ پالیسی کے مطابق فراہم کیا جائے گا،شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف سرکاری عمارات ان کے نام سے منسوب کی جائیں گی،ریونیو سے متعلق عوامی تحفظات کے ازالے کے لیے وزیر ریونیو کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں سرکاری افسران اور علاقے کے معتبرین شامل ہوں گے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ شہدا ہمیں بے حد عزیز ہیں، ان کے اہلِ خانہ کی ہر ممکن دیکھ بھال حکومت بلوچستان کی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ پاک فوج، ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عظیم قربانیوں کو پوری قوم خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ دوسری جانب جمعہ کو دھرنا کمیٹی کی کال پر صوبے بھر میں شٹر داﺅن ہڑتال کی گئی اس دوران صوبے کے تمام کاروباری مراکز بند رہے ۔






