وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے 9 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر انتخابات میں کامیاب ہونے والے تمام امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ منتخب نمائندے عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کے دوران میڈیا نمائندے مسلسل پولنگ اور ووٹر ٹرن آؤٹ کی رپورٹنگ کرتے رہے، جبکہ ووٹروں کو حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا زیادہ موقع دینے کے لیے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میرپور ڈویژن میں الیکشن کمیشن، انتظامیہ، پولیس، آئی جی، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر اداروں نے شفاف اور پرامن انتخابات کے انعقاد میں مؤثر کردار ادا کیا، جس کے باعث مجموعی طور پر انتخابی عمل منظم، کامیاب اور پرامن رہا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انتخابی روز پیش آنے والا افسوسناک واقعہ 2 گروپوں کے پرانے خاندانی تنازع کا نتیجہ تھا، کیونکہ ایک ہی خاندان کے افراد مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 10 روز قبل بھی اسی تنازع میں مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما ملک عاشق جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ انتخابی روز دوبارہ فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص جاں بحق اور ایک سے 2 افراد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق اس واقعے کے علاوہ پورے میرپور ڈویژن میں پولنگ پرامن رہی اور کسی دوسرے مقام پر کوئی بڑا امن و امان کا مسئلہ پیش نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر حلقہ ایل اے-6 میں ایک امیدوار کے خلاف فوری کارروائی کی گئی، جس نے مبینہ طور پر پولنگ اسٹیشن پر ہنگامہ آرائی اور بیلٹ پیپرز جلانے کی کوشش کی۔ اطلاع ملتے ہی انتظامیہ اور پولیس نے امیدوار کو گرفتار کر لیا، مقدمہ درج کر لیا گیا اور قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔ فائرنگ کے واقعے میں ملوث متعدد افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا کہ آزاد کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات کا پرامن انعقاد خوش آئند ہے اور کشمیری عوام نے بھرپور انداز میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کارکنوں کی محنت اور عوام کے اعتماد کا نتیجہ ہے۔ ایک سال سے جاری تنظیم سازی، اختلافات کے خاتمے اور مضبوط ٹیم ورک کے باعث جماعت کو کامیابی ملی۔
انہوں نے الیکشن کمیشن، سیکیورٹی اداروں اور انتظامیہ کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ عوام نے نواز شریف کی قیادت اور وزیراعظم شہباز شریف کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور عوامی خدمت کا سفر اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی مؤثر حکمتِ عملی، مضبوط ٹیم ورک اور منظم انتخابی مہم کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے آغاز سے ہی منصوبہ بندی کے تحت انتخابی مہم چلائی گئی، جبکہ پارلیمانی بورڈ نے مشاورت سے بہترین فیصلے کیے۔
انہوں نے کہا کہ قائد مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف نے انتخابی مہم کے دوران خصوصی وقت دیا اور بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کیا، جس کے دوران عوام نے ترقی اور خوشحالی کے ان کے وژن پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ رانا ثنااللہ کے مطابق نواز شریف نے یقین دلایا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے عوامی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کریں گے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی نے بھی آزاد کشمیر کے عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے اور وہاں کے عوام پنجاب طرز کی ترقی اور عوامی فلاح کے منصوبے اپنے خطے میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے فیصلے کا احترام ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے، کیونکہ انتخابات میں اصل عدالت عوام ہوتے ہیں جو اپنے ووٹ کے ذریعے فیصلہ سناتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر جماعت انتخابی مہم کے دوران اپنا مؤقف اور مخالفین کی خامیاں عوام کے سامنے رکھتی ہے، تاہم جمہوری رویہ یہی ہے کہ عوام کے فیصلے کو کھلے دل سے قبول کیا جائے اور انتخابات کے بعد سیاسی عمل جمہوری انداز میں آگے بڑھایا جائے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مخالفین کی تنقید کو بھی جمہوری جذبے کے تحت قبول کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی معاملے میں انکوائری کی ضرورت پیش آئی تو متعلقہ حکومتیں قانون کے مطابق کارروائی کریں گی، جبکہ آزاد کشمیر حکومت اور پاکستان حکومت ہر قانونی معاملے پر کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ انتخابی مہم میں ہر سیاسی جماعت اپنے مؤقف، پروگرام اور پالیسیوں کو عوام کے سامنے پیش کرتی ہے، جبکہ اختلافِ رائے جمہوری عمل کا فطری حصہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنما جلسوں میں اپنے کارکنوں اور عوام کے سامنے اپنا نقطۂ نظر رکھتے ہیں، اس لیے انتخابی بیانات کو ذاتی دشمنی یا عدم احترام سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایک بڑی جمہوری جماعت کے سربراہ ہیں اور مسلم لیگ (ن) ان کا احترام کرتی ہے۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق جمہوریت کا تقاضا ہے کہ سیاسی اختلافات کو جمہوری دائرے میں رکھا جائے اور عوام کے فیصلے کے بعد تمام جماعتیں اسے کھلے دل سے قبول کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر عوام کا فیصلہ مخلوط حکومت کے حق میں ہو تو اسے بھی جمہوری تقاضوں کے مطابق تسلیم کیا جانا چاہیے، کیونکہ جمہوریت کا حسن عوامی فیصلے کے احترام اور سیاسی استحکام کو آگے بڑھانے میں ہے۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ جمہوریت میں کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ عوام کے فیصلے کی بالادستی ہوتی ہے۔ عوام جو مینڈیٹ دیں، تمام سیاسی جماعتوں کو اس کا احترام کرنا چاہیے، جبکہ انتخابات کے بعد سیاسی فیصلے عوامی مینڈیٹ اور آئینی تقاضوں کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت بنانا یا نہ بنانا سیاسی جماعتوں کا جمہوری اور آئینی اختیار ہے، اس لیے سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم، آئینی اصولوں اور عوامی فیصلے کی روشنی میں آگے بڑھنا چاہیے۔





