وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں تاریخی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور ملک میں سولر پاور کی مجموعی استعداد 38 ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ چکی ہے، تاہم اب اصل چیلنج بجلی کی پیداوار نہیں بلکہ اس کے مؤثر استعمال اور ذخیرہ کرنے کا ہے۔
اسلام آباد میں ’سولر، اسٹوریج اینڈ فلیکسیبلٹی 2026‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ دن کے اوقات میں بجلی کی اضافی پیداوار جبکہ شام کے وقت طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے باعث بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) بجلی کی ترسیل اور قومی گرڈ کے استحکام کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی وسائل سے پیدا ہونے والی بجلی توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دیتی ہے، جبکہ درآمدی ایندھن پر انحصار معیشت اور توانائی سلامتی دونوں کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قطر سے آر ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے پر ملک کو رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم دن کے وقت سولر بجلی کی دستیابی سے صورتحال نسبتاً بہتر رہی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی مجموعی بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور حکومت نے 2035 تک اسے 90 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف سولر اور ونڈ توانائی سے یہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ بیٹری انرجی اسٹوریج اس نظام کا بنیادی جزو ہوگا۔
اویس لغاری نے کہا کہ حکومت ملک میں بیٹری انرجی اسٹوریج کی مقامی صنعت کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور صرف درآمدات پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ، سسٹم انٹیگریشن اور بیٹری مینجمنٹ سافٹ ویئر کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت صنعت مقامی بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کے لیے قومی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے، جبکہ ٹیکنیکل اور ریگولیٹری ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے جا چکے ہیں۔ ڈسکوز میں بیٹری انرجی اسٹوریج کے پائلٹ منصوبوں کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، جن سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل کی ریگولیٹری پالیسی کی بنیاد بنے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت قومی بیٹری انرجی اسٹوریج فریم ورک تیار کر رہی ہے، جس میں حفاظتی معیارات، گرڈ کنکشن اور سرمایہ کاری سے متعلق واضح قواعد شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی تقسیم شدہ توانائی کی منڈیوں میں شامل ہو چکا ہے اور حکومت سرمایہ کاروں کو شفاف اور طویل المدتی ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرے گی۔
اویس لغاری نے عالمی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کی سفارشات کو براہِ راست حکومتی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے گا، کیونکہ حکومت نمائشی رپورٹس نہیں بلکہ قابلِ عمل اور حقیقت پسندانہ تجاویز چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی توانائی کا مستقبل مقامی سورج، مقامی انجینئرز اور مقامی بیٹری اسٹوریج سے وابستہ ہے۔






