حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں کے تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج نے مملکت کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کا عزم دوہرایا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ’عرب نیوز‘ کے سینئر صحافی بکر عطياني کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ’پاکستان سفارتی اور عملی دونوں سطحوں پر مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑا ہے۔ میں یہاں ‘عملی طور پر’ (Physically) کے لفظ پر زور دوں گا… ہم سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔ واضح رہے کہ پاک فوج کے ترجمان کی طرف سے یہ بیان ایران کے حمایتی حوثی گروپ کی جانب سے سعودی شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہر کے بعد سامنے آیا ہے۔
طائف میں ایک ناکام بنائے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے، جبکہ حالیہ حملوں میں 80 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، سعودی اتحادی فوج نے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود کی طرف بڑھنے والے ڈرون کو بھی فضا ہی میں تباہ کر دیا، اگرچہ حوثیوں نے مقدس شہر کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ اس کے علاوہ عراق سے آنے والے ڈرونز نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں کو بھی نقصان پہنچایا جس سے تیل کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ اس عزم میں سعودی عرب کا تحفظ اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کی حفاظت شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے، پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنے برادر ملک کا دفاع جاری رکھے گا۔
پاک فوج کا یہ موقف اسلام آباد کے گزشتہ ہفتے کے محتاط سفارتی بیان سے زیادہ سخت اور واضح ہے۔ ترجمان کا یہ بیان 7 اگست کو دستخط ہونے والے ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ یہ سہ ملکی معاہدہ (پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ) کسی بھی ایک ملک پر حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرتا ہے۔ اس سے قبل ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان کی ایک بڑی عسکری فورس پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہے، جس میں 8,000 فوجی، جے ایف-17 (JF-17) جنگی طیاروں کا اسکاڈرن، ڈرونز اور HQ-9 ایئر ڈیفنس سسٹم شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی سے ہمارا تعلق جذبات، تاریخ اور اٹوٹ رشتے پر قائم ہے۔
ایٹمی ضمانت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کوئی حتمی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس سے قبل مختلف مواقع پر پاکستانی حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ تمام تر عسکری صلاحیتیں دفاعی ضروریات کے تحت دیکھی جاتی ہیں۔






