وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ کے قطعاً کوئی جارحانہ مقاصد نہیں، یہ صرف اور صرف دفاعی مقاصد اور خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ہے، مسلم امہ کے لیے یہ معاہدہ باعث تقویت ہے، برسوں سے اس کے لیے کاوشیں ہورہی تھیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جمعہ کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی معاہدہ طے پایا جس پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور میں نے دستخط کیے۔
انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مل کر حرمین شریفین کی حفاظت کا فریضہ نبھاتا رہا ہے، گزشتہ سال اس سلسلے میں باقاعدہ معاہدہ طے پایا تھا، اسی معاہدے کی توسیع ہوئی ہے، تینوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے ہے، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بھی دہائیوں پر محیط تعاون موجود ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود تعاون کا تسلسل ہے، حرمین شریفین کے تحفظ کی ذمہ داری پاکستان کے عوام اور افواج کے لیے اہم فریضہ ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیاکہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف قطعاً جارحیت نہیں، یہ صرف اور صرف دفاعی مقاصد اور خطے کے امن ترقی اور خوشحالی کے لیے ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ معاہدہ امت مسلمہ کے لیے باعث تقویت ہے۔ وزیراعظم نے سہ فریقی معاہدے کے لیے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کئی برسوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم نے وطن عزیز سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ دہشتگردوں نے بعض علاقوں میں دہشت گردی کا بازار گرم کیا۔ مختلف واقعات میں ہمارے پولیس اور افواج پاکستان کے آفیسرز اور جوان شہید ہوئے۔ ہنگو، سوات اور دیگر علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
انہوں نے میجر حافظ احسان الٰہی، کیپٹن حمزہ اکرم، ڈی ایس پی دیار خان سمیت تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارے بہادر سپوتوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ تاہم یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انشااللہ وطن عزیز سے ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ ہوگا۔






